حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 367

پھر مختلف طور کے کام (جو مختلف طور کی استعدادوں پر موقوف تھے ) جن پر دنیا کی آبادی کا مدار تھا حيّز التوا میں رہ جاتے کیونکہ کثیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسب حال ہیں جو کثیف ہیں اور لطیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسبت رکھتی ہیں جو لطیف ہیں۔یونانی حکیموں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جیسے بعض انسان حیوانات کے قریب قریب ہوتے ہیں۔اسی طرح عقل تقاضا کرتی ہے کہ بعض انسان ایسے بھی ہوں جن کا جو ہر نفس کمال صفوت اور لطافت پر واقع ہو تا جس طرح طبائع انسانی کا سلسلہ نیچے کی طرف اس قدر منزل نظر آتا ہے کہ حیوانات سے جا کر اتصال پکڑ لیا ہے۔اسی طرح اوپر کی طرف بھی ایسا متصاعد ہو کہ عالم اعلیٰ سے اتصال پکڑ لے۔اب جبکہ ثابت ہو گیا کہ افرادِ بشریہ عقل میں، قوائے اخلاقیہ میں، نور قلب میں متفاوت المراتب ہیں تو اسی سے وحی کربانی کا بعض افراد بشریہ سے خاص ہونا یعنی ان سے جو مِن كُل الوُجُوہ کامل ہیں بہ پایہ ثبوت پہنچ گیا کیونکہ یہ بات تو خود ہر یک عاقل پر روشن ہے کہ ہر یک نفس اپنی استعداد و قابلیت کے موافق انوار الہیہ کو قبول کرتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔اس کے سمجھنے کے لئے آفتاب نہایت روشن مثال ہے کیونکہ ہر چند آفتاب اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا ہے لیکن اس کی روشنی قبول کرنے میں ہر یک مکان برابر نہیں۔جس مکان کے دروازے بند ہیں اس میں کچھ روشنی نہیں پڑسکتی۔اور جس میں بمقابل آفتاب ایک چھوٹا سا روز نہ ہے اس میں روشنی تو پڑتی ہے مگر تھوڑی جو بکلی ظلمت کو نہیں اٹھا سکتی لیکن وہ مکان جس کے دروازے بمقابل آفتاب سب کے سب کھلے ہیں اور دیوار میں بھی کسی کثیف شے سے نہیں بلکہ نہایت مصفی اور روشن شیشہ سے ہیں اس میں صرف یہی خوبی نہیں ہو گی کہ کامل طور پر روشنی قبول کرے گا بلکہ اپنی روشنی چاروں طرف پھیلا دے گا اور دوسروں تک پہنچا دے گا۔یہی مثال مؤخر الذکر نفوس صافیہ انبیاء کے مطابق حال ہے یعنی جن نفوس مقدسہ کو خدا اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے وہ بھی رفع حجب اور مکمل صفوت میں اس شیش محل کی طرح ہوتے ہیں جس میں نہ کوئی کثافت اور نہ کوئی حجاب باقی ہے۔پس ظاہر ہے کہ جن افراد بشریہ میں وہ کمال تام موجود نہیں۔ایسے لوگ کسی حالت میں مرتبہء رسالتِ الہی نہیں پاسکتے۔بلکہ یہ مرتبہ قسام ازل سے انہی کو ملا ہوا ہے جن کے نفوس مقدسہ مجب ظلمانی سے بکلی پاک ہیں جن کو آغشیہ ، جسمانی سے بغایت درجہ آزادگی ہے۔جن کا تقدس و تنزہ اُس درجہ پر ہے کہ جس کے آگے خیال کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔وہی نفوس تا مہء کاملہ وسیلہ، ہدایت جمیع مخلوقات ہیں اور جیسے حیات کا فیضان تمام اعضاء کو قلب کے ذریعہ سے ہوتا ہے ایسا ہی حکیم مطلق نے