حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 359
۳۵۹ علوم مخفیہ کا سر چشمہ ہے۔یہ وہ راز ہے جو اہل حق نے مکاشفات صحیحہ کے ذریعہ سے معلوم کیا ہے جس میں میں خود صاحب تجربہ ہوں۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸۲ ۲۸۳) یہ عاجز قریباً گیارہ برس سے شرف مکالمہ الہیہ سے مشرف ہے اور اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ وحی در حقیقت آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔وحی کی مثال اگر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کے ساتھ دی جائے تو شائد کسی قدر تار برقی سے مشابہ ہے جو اپنے ہر یک تغیر کی آپ خبر دیتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگ وحی ولایت میرے پر نازل ہوتی ہے ایک خارجی اور شدیدالاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ تصرف ایسا قوی ہوتا ہے کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایسا دبا لیتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس تصرف میں گھلا اور روشن کلام سنتا ہوں۔بعض وقت ملائکہ کو دیکھتا ہوں اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ایسا تصرف اور اخذ خارجی ہوتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے۔اب اس سے انکار کرنا ایک کھلی کھلی صداقت کا خون کرنا ہے۔برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۲۶) مجھے اُس اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ یہ بات واقعی صحیح ہے کہ وحی آسمان سے دل پر ایسی رگرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع دیوار پر۔میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الہیہ کا وقت آتا ہے تو اول یک دفعہ مجھ پر ایک ربودگی طاری ہوتی ہے تب میں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوں اور میری جس اور میرا ادراک اور ہوش گو بگفتن باقی ہوتا ہے مگر اس وقت میں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اُس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا نہیں بلکہ اس کا ہے۔جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو اس وقت سب سے پہلے خدا تعالی دل کے ان خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہوتا ہے۔تب ایک عجیب کیفیت سے وہ خیالات یکے بعد دیگرے نظر کے سامنے آتے ہیں۔اور ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک خیال مثلاً زید کی نسبت دل میں آیا کہ وہ فلاں مرض سے صحت یاب ہوگا یا نہ ہو گا تو جھٹ اس پر ایک ٹکڑا کلام الہی کا ایک شعاع کی طرح گرتا ہے اور