حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 357

۳۵۷ دوسرے مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے الہام کی نسبت بیان کیا ہے یعنی یہ کہ وہ اب بھی امت محمدیہ کے کامل افراد میں پایا جاتا ہے اور انہی سے مخصوص ہے۔ان کے غیر میں ہرگز پایا نہیں جاتا۔یہ بیان ہمارا بلا ثبوت نہیں بلکہ جیسا بذریعہ تجربہ ہزار ہا صداقتیں دریافت ہو رہی ہیں۔ایسا ہی یہ بھی تجربہ اور امتحان سے ہر یک طالب پر ظاہر ہو سکتا ہے اور اگر کسی کو طلب حق ہو تو اس کا ثابت کر دکھانا بھی ہمارا ہی ذمہ ہے۔بشرطیکہ کوئی برہمو یا اور کوئی منکر دین اسلام کا طالب حق بن کر اور بصدق دل دین اسلام قبول کرنے کا وعدہ تحریری مشتہر کر کے اخلاص اور نیک نیتی اور اطاعت سے رجوع کرے۔فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ لا بعض لوگ یہ وہم بھی پیش کرتے ہیں کہ جس حالت میں امور غیبیہ کے بتانے والے دنیا میں کئی فرقے پائے جاتے ہیں کہ جو کبھی نہ کبھی اور کچھ نہ کچھ بتلا دیتے ہیں اور بعض اوقات کسی قدر ان کا مقولہ بھی سچ ہو رہتا ہے جیسے منجم، طبیب، قیافہ دان، بو کا کاہن، رمال، جفری ، فال بین اور بعض بعض مجانین اور حال کے زمانہ میں مسمریزم کے بعض امور ان سے مکشوف ہوتے رہے ہیں تو پھر اُمور غیبیہ الہام کی حقانیت پر کیونکر حجت قاطع ہوں گے۔اس کے جواب میں سمجھنا چاہئے کہ یہ تمام فرقے جن کا اوپر ذکر ہوا صرف ظن اور تخمین بلکہ وہم پرستی سے باتیں کرتے ہیں یقینی اور قطعی علم ان کو ہرگز نہیں ہوتا اور نہ ان کا ایسا دعویٰ ہوتا ہے اور بعض حوادث کو نیہ سے جو یہ لوگ اطلاع دیتے ہیں تو اُن کی پیشین گوئیوں کا ماخذ صرف علامات و اسباب ظنیہ ہوتے ہیں جنہوں نے قطع اور یقین کے مرتبہ سے مس بھی نہیں کیا ہوتا اور احتمال تلبیس اور اشتباہ اور خطا کا اُن سے مرتفع نہیں ہوتا بلکہ اکثر ان کی خبریں سراسر بے اصل اور بے بنیاد اور دروغ محض نکلتی ہیں اور باوصف اس کذب فاش اور خلاف واقعہ نکلنے کے اُن کی پیشین گوئیوں میں عزت اور قبولیت اور منصوریت اور کامیابی کے انوار پائے نہیں جاتے اور ایسے خبریں بتانے والے اپنی ذاتی حالت میں اکثر افلاس زدہ اور بدنصیب اور بد بخت اور بے عزت اور دونِ ہمت اور دنی النفس اور نا کام اور نامراد ہی نظر آتے ہیں اور امور غیبیہ کو اپنی حسب مراد ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ اُن کے حالات پر خدا کے قہر کی علامات نمودار ہوتی ہیں اور خدا کی طرف سے کوئی برکت اور عزت اور نصرت اُن کے شامل حال نہیں ہوتی۔مگر انبیاء اور اولیاء صرف نجومیوں کی طرح اُمور غیبیہ کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ خدا کے کامل فضل اور بزرگ رحمت سے کہ جو ہر دم اُن کے شامل حال ہوتی ہے ایسی اعلیٰ پیشین گوئیاں بتلاتے ہیں جن میں انوار قبولیت اور ال عمران ۶۴