حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 346
۳۴۶ ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس اُمت کا قصوں پر مدار یہ عقیده برخلاف گفته دادار ہے پر اتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اک یہی دیں کے لئے ہے جائے عز و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی اک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار ہے خدادانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قضوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفانِ مولیٰ کا نشاں جس کو یہ کامل ملے اس کو ملے وہ دوستدار واہ رے باغ محبت موت جس کی رہ گذر وصلِ یار اس کا ثمر پر ارد گرد اس کے ہیں خار براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۷) الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ اور تر ڈ داور تفکر اور تدبر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس سے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کو لامس سے ہومحسوس ہوتا ہے۔اور اس سے نفس کو مثل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہونچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رویت سے بلا تکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے۔ویسا ہی روح کو الہام سے ایک ازلی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے رُوح لذت اوٹھاتا ہے۔غرض یہ ایک منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفث فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔(پرانی تحریر ہیں۔روحانی خزائن جلد دوم صفحہ ۲۰) یادر ہے کہ الہام کے لفظ سے اس جگہ یہ مراد نہیں ہے کہ سوچ اور فکر کی کوئی بات دل میں پڑ جائے۔جیسا کہ جب شاعر شعر کے بنانے میں کوشش کرتا ہے یا ایک مصرع بنا کر دوسرا سو چتا رہتا ہے تو دوسرا مصرع دل میں پڑتا ہے سو یہ دل میں پڑ جانا الہام نہیں ہے بلکہ یہ خدا کے قانون قدرت کے موافق اپنے فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ ہے۔جو شخص اچھی باتیں سوچتا ہے یا بُری باتوں کے لئے فکر کرتا ہے اُس کی تلاش کے موافق کوئی بات ضرور اس کے دل میں پڑ جاتی ہے۔ایک شخص مثلاً نیک اور راستباز آدمی ہے جو سچائی کی حمایت میں چند شعر بناتا ہے اور دوسرا شخص جو ایک گندہ اور پلید آدمی ہے اپنے شعروں