حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 345
۳۴۵ کے لئے خدا نے ہوا پیدا کر دی۔ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا سوخدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کر دیا ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگا دی ہیں اُن کے لئے تمام سامان بھی پیدا کر دیا ہے پس اب سوچنا چاہئے کہ جبکہ انسانی جسم کو با وجود اس کے فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے۔تو انسان کی رُوح کو جو دائگی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دیئے گئے ہوں گے۔سو وہی سامان خدا کی وحی ہے اور اس کے تازہ نشان ہیں جو ناقص العلم انسان کو یقین تام تک پہنچاتے ہیں۔خدا نے جیسا کہ جسم کو اس کی خواہشوں کا سامان دیا ایسا ہی رُوح کو بھی اُس کی خواہشوں کا سامان دیا تا جسمانی اور روحانی نظام دونوں باہم مطابق ہوں۔یہ دلیل جو لمی ہے پوری نہیں ہو سکتی جب تک اُس کے ساتھ انسٹی دلیل نہ ہو یعنی جب تک تازہ نمونہ الہام کا نہ دیکھا جائے۔بلاشبہ ضرورت کا محسوس کرنا اور چیز ہے اور پھر اس ضرورت کو حاصل بھی کر لینا یہ اور امر ہے۔تم دیکھتے ہو کہ اس زمانہ میں تمہارے جسم کے لئے غذا اور پانی دونوں موجود ہیں یہ نہیں کہ فقط کسی پہلے زمانہ میں تھیں اور اب نہیں ہیں۔مگر جب الہام اور وحی کا ذکر آتا ہے تو پھر تم کسی ایسے پہلے زمانہ کا حوالہ دیتے ہو جس پر کروڑ ہا برس گزر چکے ہیں مگر موجود کچھ نہیں دکھلا سکتے۔پھر خدا کا جسمانی اور روحانی قانونِ قدرت باہم مطابق کیونکر ہوا۔ذرا ٹھہر کر سوچو یونہی جلدی سے جواب مت دو۔تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ جسمانی خواہشوں کے سامان تو تمہارے ہاتھوں میں موجود ہیں مگر رُوحانی خواہشوں کے سامان تمہارے ہاتھوں میں موجود نہیں بلکہ صرف قصے تمہارے ہاتھوں میں ہیں جو بودے اور باسی ہو چکے ہیں۔تم جانتے ہو کہ اس زمانہ تک تمہارے جسمانی چشمے بند نہیں ہوئے جن کا تم پانی پی کر پیاس کی جلن اور سوزش کو دور کرتے ہو۔اور نہ جسمانی کھیتوں کی زمین نا قابل زراعت ہو گئی ہے جن کے اناج سے تم دو وقت پیٹ بھرتے ہو مگر وہ روحانی چشمے اب کہاں ہیں۔جو الہام الہی کا تازہ پانی پلا کر پیاس کی سوزش کو دور کرتے تھے۔اور اب وہ روحانی اناج بھی تمہارے پاس نہیں ہے جس کو کھا کر تمہاری روح زندہ رہ سکتی تھی۔اب تم گویا ایک جنگل میں ہو جس میں نہ اناج ہے نہ پانی ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۶۳ تا ۶۶)