حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 336

۳۳۶ کوئی قانون عاصم ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سے ہم لزوما غلطی سے بچ سکیں۔یہی باعث ہے کہ جن حکیموں نے قواعد منطق کے بنائے اور مسائل مناظرہ کے ایجاد کئے اور دلائل فلسفہ کے گھڑے وہ بھی غلطیوں میں ڈوبتے رہے اور صد با طور کے باطل خیال اور جھوٹا فلسفہ اور کتی با تیں اپنی نادانی کے یادگار میں چھوڑ گئے۔پس اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ اپنی ہی تحقیقات سے جمیع امور حقہ اور عقائد صحیحہ پر پہونچ جانا اور کہیں غلطی نہ کرنا ایک محال عادی ہے کیونکہ آج تک ہم نے کوئی فرد بشر ایسا نہیں دیکھا اور نہ سنا اور نہ کسی تاریخی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ جو اپنی تمام نظر اور فکر میں سہو اور خطا سے معصوم ہو۔پس بذریعہ قیاس استقرائی کے یہ مسیح اور سچا نتیجہ نکلتا ہے کہ وجود ایسے اشخاص کا کہ جنہوں نے صرف قانون قدرت میں فکر اور غور کر کے اور اپنے ذخیرہ کانشنس کو واقعات عالم سے مطابقت دے کر اپنی تحقیقات کو ایسے اعلی پایۂ صداقت پر پہونچا دیا ہو کہ جس میں غلطی کا نکلنا غیر ممکن ہو۔خود عادتاً غیر ممکن صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی سے بچ سکے ہو۔اور نہ خدا ( جو رحیم و کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت پر واقف ہے ) بذریعہ اپنے بچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں اور کیونکر آفات شک شبہ سے نجات پائیں۔لہذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضاء حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اُس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتا فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاق صحیحہ کے معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پائیں اور تفہیم تعلیم کا ملکہ وہی رکھیں تا کہ نفوس بشریہ کہ سچی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہیں۔(پرانی تحریریں۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۱،۲۰) خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کر رکھا ہے۔(1) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہوسکتا ہے۔(۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔(۳) عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لا یدرک و فوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس