حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 324
۳۲۴ اس خدا کو سچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب بے کس کو اپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اُسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا۔یہاں تک کہ جب شاہ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اُس قادر خدا نے اپنے رسول کو فرمایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعوی کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام رات کی دُعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کا دعوی کرتا ہے اور خدا اس کے مقابلہ پر بادشاہوں کو ہلاک کرتا ہے۔یہ مقولہ طالب حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ یار غالب شوکہ تا غالب شوی۔ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مُردہ مذہب ہے۔ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو مُردہ کتاب ہے۔اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مُردہ خدا ہے۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۳) جس بات کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ نہایت ذلیل خیال اور قابل شرم عقیدہ ہے۔کیا یہ بات عند العقل قبول کرنے کے لائق ہے کہ ایک عاجز مخلوق جو تمام لوازم انسانیت کے اپنے اندر رکھتا ہے خدا کہلاوے؟ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے منہ پر تھوکیں اور اُس کو پکڑیں اور اُس کو سولی دیں اور وہ خدا ہو کر اُن کے مقابلہ سے عاجز ہو؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھ آ سکتی ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر تمام رات دُعا کرے اور پھر اُس کی دعا قبول نہ ہو؟ کیا کوئی دل اس بات پر اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ خدا بھی عاجز بچوں کی طرح نو مہینے تک پیٹ میں رہے۔اور خون حیض کھاوے اور آخر چیختا ہوا عورتوں کی شرمگاہ سے پیدا ہو؟ کیا کوئی عظمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خدا بے شمار اور بے ابتدا زمانہ کے بعد مجسم ہو جائے۔اور ایک ٹکڑا اس کا انسان کی صورت بنے اور دوسرا کبوتر کی اور یہ جسم ہمیشہ کے لئے اُن کے گلے کا ہار ہو جائے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ اصفحہ ۸۷،۸۶) رکس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اُس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا تو زبر دست کا ساتھی بن تا تو بھی غالب بن جائے۔