حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 323

۳۲۳ مفصل مذکور ہیں جن میں سے مُردوں کا زندہ کرنا بھی ہے مسیح ابن مریم کے معجزات سے مقابلہ کرے تو اس کو ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ ایلیا نبی کے معجزات شان اور شوکت اور کثرت میں مسیح ابن مریم کے معجزات سے بہت بڑھ کر ہیں۔ہاں انجیلوں میں بار بار اس معجزہ کا ذکر ہے کہ یسوع مسیح مصر وعوں یعنی مرگی زدہ لوگوں میں سے جن نکالا کرتا تھا اور یہ بڑا معجزہ اس کا شمار کیا گیا ہے جو محققین کے نزدیک ایک ہنسی کی جگہ ہے۔آج کل کی تحقیقات سے ثابت ہے کہ مرضِ صرع ضعف دماغ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے یا بعض اوقات کوئی رسولی دماغ میں پیدا ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ کسی اور مرض کا یہ عرض ہوتی ہے لیکن ان تمام محققین نے کہیں نہیں لکھا کہ اس مرض کا سبب جن بھی ہوا کرتے ہیں۔مسیح کے کسی معجزہ یا طرز ولادت میں کوئی ایسا اعجوبہ نہیں کہ وہ اس کی خدائی پر دلالت کرے۔اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کی ولادت کے ذکر کے ساتھ یحیی کی ولادت کا ذکر کر دیا تا معلوم کہ جیسا کہ بیٹی کی خارق عادت ولادت ان کو انسان ہونے سے باہر نہیں لے جاتی۔ایسا ہی مسیح ابن مریم کی ولادت اس کو خدا نہیں بناتی۔وہ ہر گز کسی بات پر قادر نہیں تھا۔صرف ایک عاجز انسان تھا۔اور انسانی ضعف اور لاعلمی اپنے اندر رکھتا تھا۔اور انجیل سے ظاہر ہے کہ اس کو غیب کا علم ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ ایک انجیر کے درخت کی طرف پھل کھانے گیا۔اور اُس کو معلوم نہ ہوا کہ اُس پر کوئی پھل نہیں ہے اور وہ خود اقرار کرتا ہے کہ قیامت کی خبر مجھے معلوم نہیں۔پس اگر وہ خدا ہوتا تو ضرور قیامت کا علم اوس کو ہونا چاہئے تھا۔اسی طرح کوئی صفت الوہیت اوس میں موجود نہیں تھی اور کوئی ایسی بات اس میں نہیں تھی کہ دوسروں میں نہ پائی جائے۔عیسائیوں کو اقرار ہے کہ وہ مر بھی گیا۔پس کیسا بد قسمت وہ فرقہ ہے جس کا خدا مر جائے۔یہ کہنا کہ پھر وہ زندہ ہو گیا تھا کوئی تسلی کی بات نہیں۔جس نے مرکز ثابت کر دیا کہ وہ مر بھی سکتا ہے اُس کی زندگی کا کیا اعتبار؟ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۷۸ تا ۳۸۲) ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڑھا ہو کر بعض قومی اُس کے بیکار ہو جاتے ہیں۔امتدادِ زمانہ کی وجہ سے بعض قومی اُس کے بھی بیکار ہو گئے۔اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک ٹکٹکی سے باندھ کر اُس کو کوڑے نہ لگیں اور اس کے منہ پر نہ تھو کا جائے اور چند روز اُس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر اُس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا۔ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آ گئی۔ہم