حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 322
۳۲۲ یہ تمام وہ باتیں ہیں جن کا عیسائیوں کو خود اقرار ہے اور اس بات کا بھی اقرار ہے کہ گو پہلے یہ تین اقنوم تین جسم علیحدہ علیحدہ نہیں رکھتے تھے مگر اب اس خاص زمانہ سے جس کو اب ۱۸۹۶ برس جاتا ہے تینوں اقنوم کے لئے تین علیحدہ علیحدہ جسم مقرر ہو گئے۔باپ کی وہ شکل ہے جو آدم کی کیونکہ اس نے آدم کو اپنی شکل پر بنایا دیکھو توریت پیدائش باب ۱ آیت ۲۷۔اور بیٹا یسوع کی شکل پر مجسم ہوا دیکھو یوحنا بابا آیت ا، اور رُوح القدس کبوتر کی شکل پر متشکل ہوا۔دیکھو متی باب ۳ آیت ۱ یہ تینوں مجسم خدا عیسائیوں کے زعم میں ہمیشہ کے لئے مجسم اور ہمیشہ کے لئے علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں۔اور پھر بھی یہ تینوں مل کر ایک خدا ہے لیکن اگر کوئی بتلا سکتا ہے تو ہمیں بتلا دے کہ باوجود اس دائمی تجسم اور تغیر کے یہ تینوں ایک کیونکر ہیں۔بھلا ہمیں کوئی ڈاکٹر مارٹن کلارک اور پادری عماد الدین اور پادری ٹھاکر داس کو باوجود ان کے علیحدہ علیحدہ جسم کے ایک کر کے تو دکھلاوے ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ اگر تینوں کو کوٹ کر بھی بعض کا گوشت بعض کے ساتھ ملا دیا جاوے پھر بھی جن کو خدا نے تین بنایا تھا ہرگز ایک نہیں ہو سکیں گے۔پھر جبکہ اس فانی جسم کے حیوان با وجود امکان تحلیل کے اور تفرق جسم کے ایک نہیں ہو سکتے پھر ایسے تین مجسم جن میں ہمو جب عقیدہ عیسائیاں تحلیل اور تفریق جائز نہیں کیونکر ایک ہو سکتے ہیں؟ یہ کہنا بے جانہیں ہوگا کہ عیسائیوں کے یہ تین خدا بطور تین ممبر کمیٹی کے ہیں اور بزعم ان کے تینوں کی اتفاق رائے سے ہر ایک حکم نافذ ہوتا ہے یا کثرت رائے پر فیصلہ ہو جاتا ہے۔گویا خدا کا کارخانہ بھی جمہوری سلطنت ہے اور گویا اُن کے گاڈ صاحب کو بھی شخصی سلطنت کی لیاقت نہیں۔تمام مدار کونسل پر ہے۔غرض عیسائیوں کا یہ مرکب خدا ہے جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۴ تا ۳۶) عیسائی مذہب توحید سے تہی دست اور محروم ہے بلکہ ان لوگوں نے سچے خدا سے منہ پھیر کر ایک نیا خدا اپنے لئے بنایا ہے جو ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا ہے مگر کیا یہ نیا خدا ان کا قادر ہے۔جیسا کہ اصلی خدا قادر ہے؟ اس بات کے فیصلہ کے لئے خود اس کی سرگذشت گواہ ہے کیونکہ اگر وہ قادر ہوتا تو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں نہ کھاتا۔رومی سلطنت کی حوالات میں نہ دیا جاتا اور صلیب پر کھینچا نہ جاتا۔اور جب یہودیوں نے کہا تھا کہ صلیب پر سے خود بخود اتر آہم ابھی ایمان لے آئیں گے۔اُس وقت اُتر آتا لیکن اس نے کسی موقعہ پر اپنی قدرت نہیں دکھلائی۔رہے اُس کے معجزات سو واضح ہو کہ اُس کے معجزات دوسرے اکثر نبیوں کی نسبت بہت ہی کم ہیں مثلاً اگر کوئی عیسائی ایلیا نبی کے معجزات سے جو بائیبل میں