حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 321
۳۲۱ کہ ساری عزتیں سارے آرام اور حاجات براری کا متکفل خدا ہی ہے۔پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دوضر وں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔اس لئے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔رعایت اسباب کی جاوے۔اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اُسی کے ہاتھ میں ہے۔محسن حقیقی وہی ہے۔ذرہ ذرہ اُسی سے ہے۔کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔جب انسان اس پاک حالت کو حاصل کر لے تو وہ موحد کہلاتا ہے۔غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بناوے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گزرے۔تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجود کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھا دیا جاوے اور اس کی نفی کی جاوے۔بسا اوقات انسان کے زیر نظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے کہ فلاں نیکی میں نے اپنی طاقت سے کی ہے۔انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی ہی قوت سے منسوب کرتا ہے۔انسان موحد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کر دے۔الحکم مورخہ ۳۱ / جولائی ۱۹۰۲ء صفحه ۵ ، ۶ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۶ ۵ تا ۵۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) عیسائی صاحبوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو لوگ تثلیث کا عقیدہ اور یسوع کا کفارہ نہیں مانتے وہ ہمیشہ کے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔غیر محدود خدا کو تین اقنوم میں یا چار اقنوم میں محدود کرنا اور پھر ہر ایک اقنوم کو کامل بھی سمجھنا اور ترکیب کا محتاج بھی اور پھر خدا پر یہ روا رکھنا کہ وہ ابتدا میں کلمہ تھا۔پھر وہی کلمہ جو خدا تھا مریم کے پیٹ میں پڑا اور اس کے خون سے مجسم ہوا اور معمولی راہ سے پیدا ہوا اور سارے دکھ خسرہ چیچک دانتوں کی تکلیف جو انسان کو ہوتی ہیں سب اٹھائے۔آخر کو جوان ہو کر پکڑا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔یہ نہایت گندہ شرک ہے جس میں انسان کو خدا ٹھہرایا گیا ہے خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کے پیٹ میں پڑے اور مجسم ہو اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو۔انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ خدا پر ایسے دُکھ کی مار اور یہ مصیبتیں پڑیں اور وہ جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سر چشمہ ہے اپنے لئے یہ تمام ذلتیں روا رکھے۔عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا کی اس رسوائی کا یہ پہلا ہی موقعہ ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی ذلتیں خدا نے کبھی نہیں اٹھا ئیں۔کبھی یہ امر وقوع میں نہیں آیا کہ خدا بھی انسان کی طرح کسی عورت کے رحم میں نطفہ میں مخلوط ہو کر قرار پکڑ گیا ہو۔جب سے کہ لوگوں نے خدا کا نام سنا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ بھی انسان کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔