حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 320
۳۲۰ اسباب اپنی حد تک ضروری ہے آخرت کے لئے بھی اسباب ہی ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور بدیوں سے بچنا اور دوسری نیکیوں کو اختیار کرنا اسی لئے ہے کہ اس عالم اور دوسرے عالم میں سکھ ملے تو گویا یہ نیکیاں اسباب کے قائم مقام ہیں۔اسی طرح پر یہ بھی خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا کہ دنیوی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے اسباب کو اختیار کیا جاوے۔نوکری والا نوکری کرے۔زمیندار اپنی زمینداری کے کاموں میں رہے۔مزدور مزدوریاں کریں تا وہ اپنے عیال و اطفال اور دوسرے متعلقین اور اپنے نفس کے حقوق کو ادا کرسکیں۔پس ایک جائز حد تک یہ سب درست ہے اور اس کو منع نہیں کیا جاتا۔لیکن جب انسان حد سے تجاوز کر کے اسباب ہی پر پورا بھروسہ کرے اور سارا دار و مدار اسباب ہی پر جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے دور پھینک دیتا ہے۔مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہوتا تو میں بھوکا مر جاتا۔یا اگر یہ جائیداد یا فلاں کام نہ ہوتا تو میرا بُرا حال ہو جاتا۔فلاں دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی۔یہ امور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اسباب و احباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بکلی دُور جا پڑے۔یہ خطرناک شرک ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَفي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ اور فرمایا وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ، اور فرمایا وَ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ہے اور فرمایا وَهُوَ يَتَوَلَّى الصُّلِحِينَ ے قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیوں کا متولی اور متکفل ہوتا ہے تو پھر جب انسان اسباب پر تکیہ اور تو کل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دیتا ہے۔اور ایک اور خدا اپنے لئے ان اسباب کا تجویز کرتا ہے۔چونکہ وہ ایک پہلو کی طرف جھکتا ہے۔اس سے شرک کی طرف گویا قدم اٹھاتا ہے۔جو لوگ حکام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں اُن کے دل میں ان کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے وہ ان کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو تو حید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا کر دُور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے۔اور مال کار تو حید پر جا ٹھہرے۔وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں ل الذريات :٢٣ الطلاق : ۴ الطلاق : ۴۳ 2 الاعراف : ۱۹۷