حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 319

۳۱۹ سکوں۔لوگوں کے پاس جا کر منت خوشامد کرتے ہیں۔یہ بات خدا تعالی کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اسے دور پھینک دیتا ہے میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں۔گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آ سکتا ہے کہ جیسے ایک مرد غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارد تیں ہو جاتی ہیں ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔عبودیت اور دعا خاص اُسی ذات کے مد مقابل ہیں۔وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جائے یا پکارا جاوے۔پس خوب یا درکھو! اور پھر یا درکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے، اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو !!! (الحکم مورخه ۱۲ اپریل ۱۸۹۹ء صفحہ ۶ - ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) شرک کی کئی قسم ہیں ایک تو وہ موٹا اور صریح شرک ہے جس میں ہندو عیسائی یہود اور دوسرے بت پرست لوگ گرفتار ہیں۔جس میں کسی انسان یا پتھر یا اور بے جان چیزوں یا قوتوں یا خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو خدا بنا لیا گیا ہے۔اگر چہ یہ شرک ابھی تک دنیا میں موجود ہے لیکن یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا کچھ ایسا زمانہ ہے کہ عقلیں اس قسم کے شرک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئی ہیں۔یہ جدا امر ہے کہ وہ قومی مذہب کی حیثیت سے بظاہر ان بے ہودگیوں کا اقرار کریں لیکن دراصل بالطبع لوگ ان سے متنفر ہوتے جاتے ہیں۔مگر ایک اور قسم کا شرک ہے جو مخفی طور پر زہر کی طرح اثر کر رہا ہے اور وہ اس زمانہ میں بہت بڑھتا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد بالکل نہیں رہا۔ہم یہ ہرگز نہیں کہتے اور نہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ اسباب کی رعایت بالکل نہ کی جاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے رعایت اسباب کی ترغیب دی ہے اور اس حد تک جہاں تک یہ رعایت ضروری ہے۔اگر رعایت اسباب نہ کی جاوے تو انسانی قوتوں کی بے حرمتی کرنا اور خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان فعل کی توہین کرنا ہے۔کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ بالکل رعایت اسباب کی نہ کی جاوے ضروری ہوگا کہ تمام قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور ان سے کوئی کام نہ لیا جاوے اور ان سے کام نہ لینا اور ان کو بے کار چھوڑ دینا خدا تعالیٰ کے فعل کولغو اور عبث قرار دینا ہے۔جو بہت بڑا گناہ ہے۔پس ہمارا یہ منشا اور مذہب ہرگز نہیں کہ اسباب کی رعایت بالکل ہی نہ کی جاوے بلکہ رعایت