حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 312
۳۱۲ پہنچانا گیا ہے کیونکہ ہر ایک شخص خیال کرتا ہے کہ آسمان کا راز مخفی اور غیر مشہود ہے۔بلکہ حال کے زمانہ میں قریبا تمام عیسائی اور ان کے فلاسفر آسمانوں کے وجود کے ہی قائل نہیں جن پر خدا کی بادشاہت کا انجیلوں میں سارا مدار رکھا گیا ہے مگر زمین تو فی الواقع ایک کرہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے۔اور ہزار ہا قضا و قدر کے امور اس پر ظاہر ہورہے ہیں جو خود سمجھ آتا ہے کہ یہ سب کچھ تغیر و تبدل اور حدوث اور فتنا کسی خاص مالک کے حکم سے ہو رہا ہے پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت نہیں۔۔۔ہمارے خدائے عزّ و جلّ نے سورۃ فاتحہ میں نہ آسمان کا نام لیا نہ زمین کا۔اور یہ کہہ کر حقیقت سے ہمیں خبر دے دی کہ وہ رب العالمین ہے یعنی جہاں تک آبادیاں ہیں اور جہاں تک کسی قسم کی مخلوق کا وجود موجود ہے۔خواہ اجسام خواہ ارواح ان سب کا پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا خدا ہے جو ہر وقت ان کی پرورش کرتا ہے اور ان کے مناسب حال ان کا انتظام کر رہا ہے۔اور تمام عالموں پر ہر وقت ہر دم اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور جزا سزا کا جاری ہے۔اور یا درہے کہ سورۃ فاتحہ میں فقرہ مالک یوم الدین سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات گبری کا وقت ہے۔مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانَا اشارہ کرتی ہے۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹صفحه ۳۲ تا ۴۲ ) واضح ہو کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہے زمین پر بھی ہے جیسا کہ اوس نے فرمایا وَ هُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهُ وَ فِي الْأَرْضِ اِلہ کے یعنی زمین میں وہی خدا ہے اور وہی آسمان میں خدا۔اور فرمایا کہ کسی پوشیدہ مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ سکے یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہیں۔اور یہ بھی ایک جگہ فرمایا کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اُس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ل الانفال :۳۰ - الزخرف : ۸۵ ۳ الانعام : ۱۰۴ ۲ : ۱۷ ۵ الانفال : ۲۵ - النور : ۳۶