حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 22
۲۲ روز روشن کی طرح وہ پوری ہوتی تھیں اور اُن کے تو اتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہ لاشریک خدا کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔اور میں اس جگہ توریت اور انجیل کا نام نہیں لیتا کیونکہ توریت اور انجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس قدر محرف و مبدل ہو گئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پایا اور وہ وحی نہ صرف آسانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی بلکہ ہر ایک حصہ اس کا جب خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف پر پیش کیا گیا تو اس کے مطابق ثابت ہوا اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمانی بر سے۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳ ۴۰) بخدمت امراء در یکسان و منعمان ذی مقدرت و والیان ارباب حکومت و منزلت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اے بزرگان اسلام ! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں میں تمام فرقوں سے بڑھ کر نیک ارادے پیدا کرے اور اس نازک وقت میں آپ لوگوں کو اپنے پیارے دین کا سچا خادم بناوے۔میں اس وقت محض اللہ اس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس چودھویں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کر کے دین متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لئے بھیجا ہے تا کہ میں اس پر آشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتیں ظاہر کروں اور ان تمام دشمنوں کو جو اسلام پر حملہ کر رہے ہیں ان نوروں اور برکات اور خوارق اور علومِ لدنیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں۔( بركات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴) اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجددِ وقت ہے اور روحانی طور پر اُس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشر ت مناسبت ومشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے نمونہ پر محض بہ برکت متابعت حضرت خیر البشر وافضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم