حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 304
۳۰۴ کے بہت نزدیک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوق کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۹ تا ۲۲۱) اُسی مضمون میں جو جلسہ میں پڑھا گیا مضمون کے پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ پرمیشر غضب اور کینہ اور بغض اور حسد سے الگ ہے۔شاید اس تقریر سے اس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی نسبت غضب کا لفظ آیا ہے تو گویا وہ اپنے اس مضمون میں قرآن شریف کے مقابل پر دید کو اس تعلیم سے مبرا کرتا ہے کہ خدا غضب بھی کیا کرتا ہے مگر یہ اس کی سراسر غلطی ہے۔یادر ہے کہ قرآن شریف میں کسی بے جا اور ظالمانہ غضب کی طرف خدا تعالیٰ کو منسوب نہیں کیا گیا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ بوجہ نہایت پاکیزگی اور تقدس کے خدا تعالیٰ میں ہم رنگ غضب ایک صفت ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ نافرمان کو جو سرکشی سے باز نہیں آتا اس کی سزا دی جائے اور ایک دوسری صفت ہم رنگ محبت ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ فرمانبردار کو اس کی اطاعت کی جزا دی جائے۔پس سمجھانے کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اور دوسری صفت کا نام محبت رکھا گیا ہے۔لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت انسانی محبت کی طرح جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شی چلے یعنی خدا کی ذات اور صفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ آریوں کے دید کی رو سے ان کا پر میشر کیوں گنہگاروں کو سزا دیتا ہے۔یہاں تک کہ انسانی جون سے بہت نیچے پھینک کرسکتا ، سور، بندر، بلا بنا دیتا ہے آخر اس میں ایک ایسی صفت ماننی پڑتی ہے کہ جو اس فعل کے لئے وہ محرک ہو جاتی ہے۔اسی صفت کا نام قرآن شریف میں غضب ہے۔اگر اس میں اس قسم کی صفت موجود نہیں کہ وہ تقاضا کرتی ہے کہ پر میشر گنہگاروں کو سزا دے تو پھر کیوں پر میشر کی طبیعت سزا دینے کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ آخر اس میں ایک صفت ہے جو بدلہ دینے کے لئے توجہ دلاتی ہے۔پس اسی صفت کا نام غضب ہے۔لیکن وہ غضب نہ انسان کے غضب کی مانند ہے بلکہ خدا کی شان کی مانند۔اسی غضب کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔جب وہ ایک اچھے عمل کرنے والے پر اپنا انعام واکرام وارد کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اس سے محبت کی اور جب وہ ایک بُر اعمل کرنے والے کو سزا دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اُس پر غضب کیا غرض جیسا کہ ویدوں میں غضب کا ذکر ہے ایسا ہی قرآن شریف الشورى :۱۲