حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 303
٣٠٣ پڑتا ہے اور دائمی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے۔کمال کو پہنچتا ہے اور سبھی روحانی حسن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے لیکن یہ حسن جو روحانی حسن ہے جس کو حسن معاملہ کے ساتھ موسوم کر سکتے ہیں یہ وہ حسن ہے جو اپنی قوی کششوں کے ساتھ حسن بشرہ سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ حسن بشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہوگا جو جلد زوال پذیر ہو جائے گا اور اس کی کشش نہایت کمزور ہو گی لیکن وہ روحانی حسن جس کو حسن معاملہ سے موسوم کیا گیا ہے وہ اپنی کششوں میں ایسا سخت اور زبردست ہے کہ ایک دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے اور قبولیت دعا کی بھی در حقیقت فلاسفی یہی ہے کہ جب ایسا روحانی حسن والا انسان جس میں محبت الہیہ کی رُوح داخل ہو جاتی ہے جب کسی غیر ممکن اور نہایت مشکل امر کے لئے دعا کرتا ہے اور اس دعا پر پورا پورا زور دیتا ہے تو چونکہ وہ اپنی ذات میں حسن روحانی رکھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے امر اور اذن سے اس عالم کا ذرہ ذرہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔پس ایسے اسباب جمع ہو جاتے ہیں جو اس کی کامیابی کے لئے کافی ہوں۔تجربہ اور خدا تعالیٰ کی پاک کتاب سے ثابت ہے کہ دنیا کے ہر ایک ذرہ کو طبعاً ایسے شخص کے ساتھ ایک عشق ہوتا ہے اور اس کی دُعا ئیں ان تمام ذرات کو ایسا اپنی طرف کھینچتی ہیں جیسا کہ آہن ربا لو ہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پس غیر معمولی باتیں جن کا ذکر کسی علم طبعی اور فلسفہ میں نہیں اس کشش کی باعث ظاہر ہو جاتی ہیں اور وہ کشش طبعی ہوتی ہے۔جب سے کہ صانع مطلق نے عالم اجسام کو ذرات سے ترکیب دی ہے ہر ایک ذرے میں وہ کشش رکھی ہے اور ہر ایک ذرہ روحانی حسن کا عاشقِ صادق ہے۔اور ایسا ہی ہر ایک سعید روح بھی کیونکہ وہ حسنِ تجلبی گاہ حق ہے۔وہی حسن تھا جس کے لئے فرمایا اُسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا ابلیس۔اور اب بھی بہتیرے ابلیس ہیں جو اس حسن کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ حسن بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے۔نوح میں وہی حسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزت جل شانہ کو منظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔پھر اس کے بعد موسی بھی وہی حسن روحانی لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اٹھا کر آخر فرعون کا بیڑا غرق کیا۔پھر سب کے بعد سید الانبياء و خَيرُ الوَراى مولانا وسيدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی حسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے۔دَنَا فَتَدَلَّى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ ادنی کے یعنی وہ نبی جناب البی البقرة : ۳۵ النجم : ١٠٩