حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 301

٣٠١ لوگوں کو پر میشر کی طرف خیال بھی نہ آتا اور نہ پر میشر اس میں کوئی تدبیر کرسکتا کیونکہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی سوچنا چاہئے کہ پر میشر کا بھگتی اور عبادت اور نیک اعمال کے لئے مواخذہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ اُس نے خود محبت اور اطاعت کی قوتیں انسان کی رُوح کے اندر رکھی ہیں۔الہذا وہ چاہتا ہے کہ انسان جس میں خود اوس نے یہ قوتیں رکھی ہیں اس کی محبت اور اطاعت میں محو ہو جائے ورنہ پر میشر میں یہ خواہش پیدا کیوں ہوئی کہ لوگ اس سے محبت کریں اس کی اطاعت کریں اور اس کی مرضی کے موافق رفتار اور گفتار بناویں۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۵، ۳۸۶) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے یہ تو ہر ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ بہتیرے ہم میں ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اُن سے محبت رکھتا ہے یا نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو اُن کے دلوں پر سے پردہ اٹھا وے جس پردہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے۔اور یہ پردہ اٹھایا جانا بجز مکالمہ الہیہ کے اور کسی صورت سے میتر نہیں آ سکتا پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں اس دن غوطہ مارتا ہے جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے انا الموجُود کی اس کو آپ بشارت دیتا ہے۔تب انسان کی معرفت صرف اپنے قیاسی ڈھکوسلے یا محض منقولی خیالات تک محدود نہیں رہتی بلکہ خدا تعالیٰ سے ایسا قریب ہو جاتا ہے کہ گویا اس کو دیکھتا ہے اور یہ بیچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اُسی دن انسان کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ جل شانہ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے۔اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود کی خبر ہی نہیں دیتا بلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر اُن پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ اُن کی دعائیں جو ظاہری امیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے اُن کو اطلاع دے دیتا ہے۔تب اُن کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعائیں سنتا اور ہم کو اطلاع دیتا اور مشکلات سے الشمس :١٠