حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 296

۲۹۶ خوش آواز کے گیت کی طرف اس کی روح کا کھینچے جانا در حقیقت اسی گمشدہ محبوب کی تلاش ہے اور چونکہ انسان اس دقیق در دقیق ہستی کو جو آگ کی طرح ہر ایک میں مخفی اور سب پر پوشیدہ ہے اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا اور نہ اپنی نا تمام عقل سے اس کو پا سکتا ہے۔اس لئے اس کی معرفت کے بارے میں انسان کو بڑی بڑی غلطیاں لگی ہیں اور سہو کاریوں سے اس کا حق دوسرے کو دیا گیا ہے۔خدا نے قرآن شریف میں یہ خوب مثال دی ہے کہ دنیا ایک ایسے شیش محل کی طرح ہے جس کی زمین کا فرش نہایت مصفی شیشوں سے کیا گیا ہے اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی چھوڑا گیا ہے جو نہایت تیزی سے چل رہا ہے۔اب ہر ایک نظر جو شیشوں پر پڑتی ہے وہ اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے۔اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسا کہ پانی سے ڈرنا چاہئے حالانکہ وہ درحقیقت شیشے ہیں مگر صاف شفاف۔سو یہ بڑے بڑے اجرام جو نظر آتے ہیں جیسے آفتاب و ماہتاب وغیرہ یہ وہی صاف شیشے ہیں جن کی غلطی سے پرستش کی گئی اور ان کے نیچے ایک اعلیٰ طاقت کام کر رہی ہے جو ان شیشوں کے پردہ میں پانی کی طرح بڑی تیزی سے چل رہی ہے اور مخلوق پرستوں کی نظر کی یہ غلطی ہے کہ انہی شیشوں کی طرف کام کو منسوب کر رہے ہیں جو ان کے نیچے کی طاقت دکھلا رہی ہے یہی تفسیر اس آیت کریمہ کی ہے۔اِنَّه صَرْحُ مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ۔غرض چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات باوجود نہایت روشن ہونے کے پھر بھی نہایت مخفی ہوتی ہے اس لئے اس کی شناخت کے لئے صرف یہ نظام جسمانی جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کافی نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام پر مدار رکھنے والے باوجود یکہ اس ترتیب ابلغ اور محکم کو جو صد ہا عجائبات پر مشتمل ہے نہایت غور کی نظر سے دیکھتے رہے بلکہ ہیئت اور طبعی اور فلسفہ میں وہ مہارتیں پیدا کیں کہ گویا زمین و آسمان کے اندر جنس گئے مگر پھر بھی شکوک اور شبہات کی تاریکی سے نجات نہ پاسکے اور اکثر اُن کے طرح طرح کی خطاؤں میں مبتلا ہو گئے اور بے ہودہ اوہام میں پڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے اور اگر ان کو اس صانع کے وجود کی طرف کچھ خیال بھی آیا تو بس اسی قدر کہ اس اعلیٰ اور عمدہ نظام کو دیکھ کر یہ اُن کے دل میں پڑا کہ اس عظیم الشان سلسلہ کا جو پُر حکمت نظام اپنے ساتھ رکھتا ہے کہ کوئی پیدا کرنے والا ضرور چاہئے مگر ظاہر ہے کہ یہ خیال نا تمام اور یہ معرفت ناقص ہے کیونکہ یہ کہنا کہ اس سلسلہ کے لئے ایک خدا کی ضرورت ہے اس دوسرے کلام سے ہرگز مساوی نہیں کہ وہ خدا در حقیقت ہے بھی۔غرض یہ اُن کی صرف النمل: ۴۵