حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 294
۲۹۴ بلکہ وہ اپنی ہر ایک قدرت کے اجراء اور نفاذ میں اپنی صفات کمالیہ کا ضرور لحاظ رکھتا ہے کہ آیا وہ امر جس کو وہ اپنی قدرت سے کرنا چاہتا ہے اس کی صفات کا ملہ سے منافی و مبائن تو نہیں۔مثلاً وہ قادر ہے کہ ایک بڑے پر ہیز گار صالح کو دوزخ کی آگ میں جلاوے۔لیکن اس کے رحم اور عدل اور مجازات کی صفت اس بات کی منافی پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرے۔اس لئے وہ ایسا کام کبھی نہیں کرتا۔ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف میں رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تئیں ہلاک کرے۔کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیات ازلی ابدی کی منافی ہے۔پس اسی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی نہیں بناتا کیونکہ اُس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے۔پس ذرہ آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہئے کہ ایک کام کرنے سے عاجز ہونا اور بات ہے لیکن باوجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اور بات ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۳۰ تا ۲۳۳ حاشیه ) اپنے ذاتی اقتدار اور اپنی ذاتی خاصیت سے عالم الغیب ہونا خدائے تعالیٰ کی ذات کا ہی خاصہ ہے۔قدیم سے اہلِ حق حضرات واجب الوجود کے علم غیب کی نسبت وجوب ذاتی کا عقیدہ رکھتے ہیں اور دوسرے تمام ممکنات کی نسبت امتناع ذاتی اور امکان بالواجب عزاسمہ کا عقیدہ ہے۔یعنی یہ عقیدہ کہ خدائے تعالی کی ذات کے لئے عالم الغیب ہونا واجب ہے اور اس کے ہویت حقہ کی یہ ذاتی خاصیت ہے کہ عالم الغیب ہو۔مگر ممکنات جو هَا لِكَةُ الذَّات اور بَاطِلَةُ الْحَقِیقت ہیں اس صفت میں اور ایسا ہی دوسری صفات میں شراکت بحضرت باری عَزّ اسْمُهُ جائز نہیں۔اور جیسا ذات کی رو سے شریک الباری ممتنع ہے ایسا ہی صفات کی رو سے بھی ممتنع ہے۔پس ممکنات کے لئے نَـظـرا عـلـى ذَاتِهِم عالم الغيب ہونا ممتنعات میں سے ہے۔خواہ نبی ہوں یا محدث ہوں یا ولی ہوں۔ہاں الہام الہی سے اسرار غیبیہ کو معلوم کرنا یہ ہمیشہ خاص اور برگزیدہ کو حصہ ملتا رہا ہے۔اور اب بھی ملتا ہے جس کو ہم صرف تا بعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پاتے ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳ ۴۵ ،۴۵۴) هما را زنده حي و قيوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے۔ہم ایک بات پوچھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں تو وہ قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے۔اگر یہ سلسلہ ہزار مرتبہ تک بھی جاری رہے تب بھی وہ جواب دینے سے اعراض نہیں کرتا۔وہ اپنے کلام میں عجیب در عجیب غیب کی