حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 293

۲۹۳ کا علم اس کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کی نسبت پورا پورا علم رکھتا ہے تو البتہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اور اگر قادر نہیں ہوسکتا تو اس کے علم میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص ہوتا ہے اور اگر پورا علم نہ ہو تو قطع نظر بنانے سے متشابہ چیزوں میں باہم امتیاز کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔سواگر خدائے تعالی خالق الاشیاء نہیں تو اس میں صرف یہی نقص نہیں ہے کہ اس صورت میں وہ ناقص العلم ٹھہرا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ کروڑ ہا روحوں کے امتیاز اور تمیز اور شناخت میں روز بروز دھو کے بھی کھایا کرے اور بسا اوقات زید کی رُوح کو بکر کی روح سمجھ بیٹھے کیونکہ ادھورے علم کو ایسے دھو کے ضرور لگ جایا کرتے ہیں اور اگر کہو کہ نہیں لگتے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۲ تا ۲۲۶ حاشیه ) شائد کسی دل کو اس جگہ یہ وسوسہ پکڑے کہ اگر کسی شے پر پورا پورا علمی احاطہ ہونے سے وہ شے مخلوق ہو جاتی ہے تو علم حق سبحانہ تعالیٰ جو اپنی ذات سے متعلق ہے وہ بھی بہر حال کامل ہے۔تو کیا خدائے تعالیٰ اپنی ذات کا آپ خالق ہے یا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے؟ اس میں اعتراض کے پہلے ٹکڑے کا تو یہ جواب ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے وجود کا آپ خالق ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو۔اور ظاہر ہے کہ کوئی شے اپنے وجود سے پہلے موجود نہیں ہو سکتی۔ورنہ تــقــدم الـشـي عـلـى نفسه لازم آتا ہے۔بلکہ خدائے تعالیٰ جو اپنی ذات کا علم کامل رکھتا ہے تو اس جگہ عالم اور علم اور معلوم ایک ہی شے ہے جس میں علیحدگی اور دوئی کی گنجائش نہیں تو پھر اس جگہ وہ الگ چیز کون سی ہے جس کو مخلوق ٹھہرایا جائے سو ذاتی علم خدائے تعالیٰ کا جو اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے دوسری چیزوں پر اس کا قیاس نہیں کر سکتے۔غرض علم ذاتی باری تعالیٰ میں جو اس کی ذات سے متعلق ہے عالم اپنے معلوم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے تا ایک خالق اور مخلوق قرار دیا جاوے۔ہاں اس کے وجود میں بجائے مخلوق کہنے کے یہ کہنا چاہئے کہ وہ وجود کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہور پذیر ہے اور خدا ہونے کے بھی یہی معنے ہیں کہ خود آئندہ ہے۔دوسرا ٹکڑا اعتراض کا کہ تقریر مذکورہ بالا سے خدائے تعالیٰ کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قدرت الہی صرف اُن چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو اُس کی صفات از لیہ ابدیہ کی منافی اور مخالف نہ ہوں بے شک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدائے تعالیٰ کو کامل ہو اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا بھی کر سکتا ہے لیکن یہ بات ہرگز صحیح اور ضروری نہیں کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو اُن سب باتوں کو بلالحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کر کے بھی دکھاوے