حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 292
۲۹۲ ضرورت نہیں بلکہ جاندار ہونا اور اپنے تئیں جاندار سمجھنا دونوں باتیں ایسی باہم قریب واقع ہیں کہ ان میں ایک بال کا فرق نہیں۔سو ایسا ہی جمیع موجودات کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا علم ہونا ضروری ہے۔یعنی اس جگہ بھی عالم اور معلوم میں ایک ذرہ فرق اور فاصلہ نہیں چاہئے۔اور یہ اعلیٰ درجہ علم کا جو باری تعالیٰ کو اپنے تحقق الوہیت کے لئے اس کی ضرورت ہے اسی حالت میں اس کے لئے مسلم ہوسکتا ہے کہ جب پہلے اُس کی نسبت یہ مان لیا جائے کہ اس میں اور اس کے معلومات میں اس قدر قرب اور تعلق واقع ہے جس سے بڑھ کر تجویز کرنا ممکن ہی نہیں اور یہ کامل تعلق معلومات سے اسی صورت میں اس کو ہو سکتا ہے کہ جب عالم کی سب چیزیں جو اس کی معلومات ہیں اس کے دست قدرت سے نکلی ہوں اور اس کی پیدا کردہ اور مخلوق ہوں اور اُس کی ہستی سے اُن کی ہستی ہو۔یعنی جب ایسی صورت ہو کہ موجود حقیقی وہی ایک ہوا اور دوسرے سب وجود اس سے پیدا ہوئے ہوں۔اور اس کے ساتھ قائم ہوں۔یعنی پیدا ہو کر بھی اپنے وجود میں اس سے بے نیاز اور اس سے الگ نہ ہوں بلکہ در حقیقت سب چیزوں کے پیدا ہونے کے بعد بھی زندہ حقیقی وہی ہو۔اور دوسری ہر ایک زندگی اسی سے پیدا ہوئی ہو۔اور اس کے ساتھ قائم ہو۔اور بے قید حقیقی وہی ایک ہو اور دوسری سب چیزیں کیا ارواح اور کیا اجسام اُس کی لگائی ہوئی قیدوں میں مقید اور اس کے ہاتھ کے بندوں سے بندھے ہوئے اور اس کی مقرر کردہ حدوں میں محدود ہوں اور وہ ہر چیز پر محیط ہو اور دوسری سب چیزیں اس کی ربوبیت کے نیچے احاطہ کی گئی ہوں اور کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے ہاتھ سے نکلی نہ ہو۔اور اس کی ربوبیت کا اس پر احاطہ نہ ہو۔یا اُس کے سہارے سے وہ چیز قائم نہ ہو۔غرض اگر ایسی صورت ہو تب خدائے تعالیٰ کا تعلق تام جو علم تام کے لئے شرط ہے اپنے معلومات سے ہو گا۔اسی تعلق تام کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن شریف میں اشارہ فرمایا جیسے وہ فرماتا ہے۔وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ے یعنی ہم انسان کی جان سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ تر نزدیک ہیں ایسا ہی اس نے قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔هُوَ الْحَيُّ الْقَوم نے یعنی حقیقی حیات اس کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اُس کے ساتھ زندہ ہیں۔یعنی در حقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے۔اگر روح کو مخلوق اور حادث تسلیم نہ کیا جائے تو اس بات کے تسلیم کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں کہ ایک بے تعلق شخص جو فرضی طور پر پر میشر کے نام سے موسوم ہے رُوح کی حقیقت سے کچھ اطلاع رکھتا ہے اور اس ق :۱۷ البقرة : ۲۵۶