حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 20
۲۰ یہ وہ تمام مذاہب ہیں جن میں غور کرنے کے لئے میں نے ایک بڑا حصہ عمر کا خرچ کیا۔اور نہایت دیانت اور تدبر سے ان کے اصول میں غور کی مگر سب کو حق سے دُور اور مہجور پایا۔ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچا تا ہے۔اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک تقاضاؤں کو پورا کرنے والا ہے۔۔۔اسلام کا خدا کسی پر اپنے فیض کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ اور جولوگ پورے زور سے اس کی طرف دوڑتے ہیں اُن کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے۔سوئیں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے۔جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پا نا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولی فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۹ تا ۶۵) بعض نادانوں کا یہ خیال کہ گویا میں نے افترا کے طور پر الہام کا دعویٰ کیا ہے غلط ہے بلکہ در حقیقت یہ کام اس قادر خدا کا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اس جہان کو بنایا ہے۔جس زمانہ میں لوگوں کا ایمان خدا پر کم ہو جاتا ہے اس وقت میرے جیسا ایک انسان پیدا کیا جاتا ہے اور خدا اس سے ہمکلام ہوتا ہے۔اور اس کے ذریعہ سے اپنے عجائب کام دکھلاتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ خدا ہے۔میں عام اطلاع دیتا ہوں کہ کوئی انسان خواہ ایشیائی ہو خواہ یوروپین اگر میری صحبت میں رہے تو وہ ضرور کچھ عرصہ کے بعد میری ان باتوں کی سچائی معلوم کر لے گا۔(اشتہار واجب الاظہار ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۸) جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ :۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ ابَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلَ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ “ یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اُس کے صحیح معنے تیرے پر کھول دیئے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے کہ جو باعث پشت در پشت کی