حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 282
۲۸۲ جس نے ہاتھی کو وہ مقدار بخشا اور انسان کے لئے وہ مقدار مقرر کیا۔اور اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ان تمام جسمانی چیزوں میں عجیب طور سے خدا تعالیٰ کا ایک پوشیدہ تصرف نظر آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حد بندی مشاہدہ ہوتی ہے۔ان کیڑوں کی مقدار سے لے کر جو بغیر دور بین کے دکھائی نہیں دے سکتے ان بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے۔کوئی جانور اپنے جسم کی رُو سے اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتا ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جا سکتے۔پس یہ حد بندی دلالت کر رہی ہے کہ در پردہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔یہی معنی اس مذکورہ بالا آیت کے ہیں کہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے۔ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے۔یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کر سکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی روح کو باوجود نعیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ہر ایک حیوان کی رُوح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کر سکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرر اور مقدر ہیں۔پس جس طرح اجسام کی حد بندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے اسی طرح ارواح کی طاقتوں کی حد بندی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ان کا بھی کوئی خالق اور حد باندھنے والا ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۷ تا ۱۹) اگر دل میں یہ وہم گذرتا ہو کہ خدا نے مختلف طبائع کیوں پیدا کیں اور کیوں سب کو ایسی قوتیں عنایت نہ فرما ئیں جن سے وہ معرفتِ کاملہ اور محبت کا ملہ کے درجہ تک پہنچ جاتے۔تو یہ سوال بھی خدا کے کاموں میں ایک فضول دخل ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ تمام مخلوقات کو ایک ہی درجہ پر رکھنا اور سب کو اعلی کمالات کی قوتیں بخشنا خدا پر حق واجب نہیں۔یہ تو صرف اس کا فضل ہے۔اسے اختیار ہے جس پر چاہے کرے اور جس پر چاہے نہ کرے۔مثلا تم کو خدا نے آدمی بنایا اور گدھے کو آدمی نہ بنایا۔تم کو عقل دی اور اس کو نہ دی یا تمہارے لئے علم حاصل ہوا اور اس کو نہ ہوا۔یہ سب مالک کی مرضی کی بات ہے کوئی ایسا حق نہیں کہ تمہارا تھا اور اُس کا نہ تھا۔غرض جس حالت میں خدا الفرقان : ٣