حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 19
۱۹ اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا۔یہ تو سب کچھ ہوا لیکن روحانی سختی کشی کا حصہ ہنوز باقی تھا۔سو وہ حصہ ان دنوں میں مجھے اپنی قوم کے مولویوں کی بد زبانی اور بد گوئی اور تکفیر اور تو ہین اور ایسا ہی دوسرے جہلاء کے دشنام اور دل آزاری سے مل گیا۔اور جس قدر یہ حصہ بھی مجھے ملا میری رائے ہے کہ تیرہ سو برس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم کسی کو ملا ہو گا۔میرے لئے تکفیر کے فتوے طیار ہو کر مجھے تمام مشرکوں اور عیسائیوں اور دہریوں سے بدتر ٹھہرایا گیا اور قوم کے سفہاء نے اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مجھے وہ گالیاں دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کے سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملی۔سومیں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ دونوں قسم کی سختی سے میرا امتحان کیا گیا۔توہین ہے۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۵ تا ۲۰۱ حاشیه) خدا تعالیٰ اس بات کو جانتا ہے اور وہ ہر ایک امر پر بہتر گواہ ہے کہ وہ چیز جو اس کے راہ میں مجھے سب سے پہلے دی گئی وہ قلب سلیم تھا یعنی ایسا دل کہ حقیقی تعلق اس کا بجز خدائے عز و جل کے کسی چیز کے ساتھ نہ تھا۔میں کسی زمانہ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو انگر میں نے کسی حصہ عمر میں بجز خدائے عز وجل کسی کے ساتھ اپنا حقیقی تعلق نہ پایا اور اسی تپش محبت کی وجہ سے میں ہرگز کسی ایسے مذہب پر راضی۔نہیں ہوا جس کے عقائد خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت کے برخلاف تھے یا کسی قسم کی توہین کو مستلزم تھے۔یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب مجھے پسند نہ آیا کیونکہ اس کے ہر ایک قدم میں خدائے عز و جل کی اسی طرح ہندو مذہب جس کی ایک شاخ آریہ مذہب ہے وہ سچائی کی حالت سے بالکل گرا ہوا ہے۔ان کے نزدیک اس جہان کا ذرہ ذرہ قدیم ہے جن کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں۔پس ہندوؤں کو اس خدا پر ایمان نہیں جس کے بغیر کوئی چیز ظہور میں نہیں آئی اور جس کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔غرض میں نے خوب غور سے دیکھا کہ یہ دونوں مذہب راستبازی کے مخالف ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جس قدر ان مذاہب میں روکیں اور نو میدی پائی جاتی ہے میں سب کو اس رسالہ میں لکھ نہیں سکتا صرف بطور خلاصہ لکھتا ہوں کہ وہ خدا جس کو پاک روحیں تلاش کرتی ہیں اور جس کو پانے سے انسان اسی زندگی میں بچی نجات پاسکتا ہے اور اس پر انوار الہی کے دروازے کھل سکتے ہیں اور اس کی کامل معرفت کے ذریعہ سے کامل محبت پیدا ہو سکتی ہے اُس خدا کی طرف یہ دونوں مذہب رہبری نہیں کرتے اور ہلاکت کے گڑھے میں ڈالتے ہیں۔ایسا ہی ان کے مشابہ دنیا میں اور مذاہب بھی پائے جاتے ہیں مگر یہ سب مذاہب خدائے واحد لا شریک تک نہیں پہنچا سکتے اور طالب کو تاریکی میں چھوڑتے ہیں۔