حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 275
۲۷۵ عمل سے اکثر بچھوؤں کو پکڑ لیتا ہوں۔اور صاحب کتاب فتوحات وفصوص جو ایک بڑا بھارا نامی فاضل اور علوم فلسفہ وتصوف میں بڑا ماہر ہے۔وہ اپنی کتاب فتوحات میں لکھتا ہے کہ ہمارے مکان پر ایک فلسفی اور کسی دوسرے کی خاصیت احراق آگ میں کچھ بحث ہو کر اس دوسرے شخص نے یہ عجیب بات دکھلائی کہ فلسفی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کوئلوں کی آگ میں جو ہمارے سامنے مجمر میں پڑی ہوئی تھی ڈال دیا اور کچھ عرصہ اپنا اور فلسفی کا ہاتھ آگ پر رہنے دیا مگر آگ نے اُن دونوں ہاتھوں میں سے کسی پر ایک ذرا بھی اثر نہ کیا۔اور راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَ إِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمُ جَبَّارِيْنَ - زنبور کو پکڑ لیتا تھا اور اُس کی نیش زنی سے بکتی محفوظ رہتا تھا اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جلشانہ معلوم ہوتے ہیں۔غرض یہ عجائب خانہ دنیا کا بے شمار عجائبات سے بھرا ہوا ہے۔جو دانا اور شریف حکیم گزرے ہیں انہوں نے اپنی چند معدود معلومات پر ہرگز ناز نہیں کیا اور وہ اس بات کو بہت بے شرمی اور گستاخی سمجھتے رہے ہیں کہ اپنے محدود تجربہ کا نام خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت رکھیں۔کیا جس نے یہ پُر بہار آسمان جو مہر و ماہ اور ستاروں کے چراغوں سے سج رہا ہے اور یہ رشک گلزار زمین جور نگا رنگ مخلوقات سے آباد ہو رہی ہے بغیر ایک ذرہ مشقت اٹھانے کے صرف اپنے ارادہ سے پیدا کر دیا اس کی قدرتوں کا کوئی انتہا پا سکتا ہے؟ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۹۰ تا ۱۰۱) یہ ایک سر ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الہی پیدا ہو جاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر یک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے۔چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلمات الہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الہی ہی ہیں جو بقدرت الہی مخلوقیت کے رنگ میں آ جاتے ہیں۔کلام الہی کی عبارت ان دونوں معنوں کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلیات ربوبیت سے بقدرت الہی لوازم وخواص جدیدہ حاصل کر کے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہو گئے ہیں اور در حقیقت یہ ایک ستر ان اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آسکتے اور عوام کے لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اُسی کی مخلوق اور اُسی کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے۔لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے الشعراء: ۱۳۱