حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 273

۲۷۳ یونانیوں میں یہ قصے بہت مشہور ہیں جو بعض عورتوں کو جو اپنے وقت میں عفیفہ اور صالحہ تھیں بغیر صحبت مرد کے حمل ہو کر اولا د ہوئی ہے۔پھر علامہ موصوف بطور رائے کے لکھتا ہے کہ یہ سب قصے افتراء پر محمول نہیں ہو سکتے کیونکہ بغیر کسی اصل صحیح کے مختلف افراد اور مہذب قوموں میں ایسے دعاوی ہرگز فروغ نہیں پاسکتے۔ان سب قصوں کی نسبت گوکسی منکر کی کیسی ہی رائے ہو مگر صرف ان کے نادر الوقوع ہونے کی وجہ سے وہ سب کی سب رد نہیں کی جاسکتیں اور ان کے ابطال پر کوئی دلیل فلسفی قائم نہیں ہو سکتی۔۔اور علامہ موصوف نے اس مقام میں ایک تقریر بہت ہی عمدہ لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اگر چہ سب انسان ایک نوع میں ہونے کی وجہ سے باہم مناسب الطبع واقعہ ہیں مگر پھر بھی اُن میں سے بعض کو نا در طور پر کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں خاص خاص طاقتیں یا کسی اعلیٰ درجہ کی قو تیں عطا ہوتی ہیں جو عام طور پر دوسروں میں نہیں پائی جاتیں جیسے مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی جو بطور خارق عادت ہے اور بعض کی قوت حافظہ یا قوت نظر ایسے کمال درجہ کو پہنچی ہے جو اس کی نظیر نہیں پائی گئی اور اس قسم کے لوگ بہت نادر الوجود ہوتے ہیں جو صد ہایا ہزاروں برسوں کے بعد کوئی فردان میں سے ظہور میں آتا ہے اور چونکہ عوام الناس کی نظر اکثر امور کثیر الوقوع اور متواتر الظہور پر ہوا کرتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ میں جو باتیں کثیر الوقوع اور متواتر الظہور ہوں وہ بطور قاعدہ یا قانون قدرت کے مانی جاتی ہیں اور انہی کی سچائی پر انہیں اعتماد ہوتا ہے اس لئے دوسرے امور جو نادر الوقوع ہوتے ہیں وہ بمقابل امور کثیر الوقوع کے نہایت مضمحل اور مشتبہ بلکہ باطل کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔اسی وجہ سے عوام کیا بلکہ خواص کو بھی اُن کے وجود میں شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔سو بڑی غلطی جو حکماء کو پیش آتی ہے اور بڑی بھاری ٹھو کر جو اُن کو آگے قدم رکھنے سے روکتی ہے یہ ہے کہ وہ امور کثیر الوقوع کے لحاظ سے نادر الوقوع کی تحقیق کے در پے نہیں ہوتے اور جو کچھ اُن کے آثار چلے آتے ہیں اُن کو صرف قصے اور کہانیاں خیال کر کے اپنے سر پر سے ٹال دیتے ہیں۔حالانکہ یہ قدیم سے عادت اللہ ہے جو امور کثیر الوقوع کے ساتھ نادر الوقوع عجائبات بھی کبھی کبھی ظہور میں آتے رہتے ہیں۔اس کی نظیریں بہت ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔اور حکیم بقراط نے اپنی ایک طبی کتاب میں چند چشم دید بیماروں کا بھی حال لکھا ہے جو قواعد طبی اور تجربہ اطباء کی رو سے وہ ہرگز قابل علاج نہیں تھے مگران بیماروں نے عجیب طور پر شفا پائی جس کی نسبت اُن کا خیال ہے کہ یہ شفا بعض نادر تاثیرات ارضی یا سماوی سے ہے۔اس جگہ ہم اس قدر اور لکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بات صرف نوع انسان میں محدود نہیں کہ