حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 269

۲۶۹ قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ خدا تعالیٰ جب چاہے ذرات اجسام میں یا ارواح میں وہ قو تیں پیدا کر دے جو اُن میں موجود نہ ہوں مثلاً ہم ایک بیمار کے لئے دُعا کرتے ہیں اور بظاہر مرنے والے آثار اس میں ہوتے ہیں تب ہماری درخواست ہوتی ہے کہ خدا اس کے ذرات جسم میں ایک ایسی قوت پیدا کر دے جو اس کے وجود کو موت سے بچالے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر وہ دعا قبول ہوتی ہے اور بسا اوقات اول ہمیں علم دیا جاتا ہے کہ یہ شخص مرنے کو ہے اور اس کی زندگی کی قوتوں کا خاتمہ ہے لیکن جب دعا بہت کی جاتی ہے اور انتہا تک پہنچ جاتی ہے اور شدت دعا اور فلق اور کرب سے ہماری حالت ایک موت کی سی ہو جاتی ہے تب ہمیں خدا سے وحی ہوتی ہے کہ اس شخص میں زندگی کی طاقتیں پھر پیدا کی گئیں تب وہ یک دفعہ صحت کے آثار ظاہر کرنے لگتا ہے گویا مردہ سے زندہ ہو گیا۔ایسا ہی مجھے یاد ہے کہ جب میں نے طاعون کے وقت میں دُعا کی کہ اے خدائے قادر ! ہمیں اس بلا سے بچا اور ہمارے جسم میں وہ ایک تریاقی خاصیت پیدا کر دے جس سے ہم طاعون کی زہر سے بچ جائیں تب وہ خاصیت خدا نے ہم میں پیدا کر دی اور فرمایا کہ میں طاعون کی موت سے تمہیں بچاؤں گا اور فرمایا کہ تیرے گھر کی چار دیواری کے لوگ جو تکبر نہیں کرتے یعنی خدا کی اطاعت سے سرکش نہیں اور پر ہیز گار ہیں میں اُن سب کو بچاؤں گا اور نیز میں قادیان کو طاعون کے سخت غلبہ اور عام ہلاکت سے محفوظ رکھوں گا یعنی وہ سخت تباہی جو دوسرے دیہات کو فنا کر دے گی اس قدر قادیان میں تباہی نہیں ہو گی۔سو ہم نے دیکھا اور خدا تعالیٰ کی ان تمام باتوں کو مشاہدہ کیا۔پس ہمارا خدا یہی خدا ہے جونئی نئی قو تیں اور گن اور خاصیتیں ذرات عالم میں پیدا کرتا ہے۔ہم نے اس کامل خدا سے خبر پاکر ٹیکہ کے انسانی حیلہ سے دست کشی کی اور بہت سے لوگ ٹیکہ کرانے والے اس جہاں سے گذر گئے اور ہم اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔پس اسی طرح خدا تعالیٰ ذرات پیدا کرتا ہے جس طرح اوس نے ہمارے لئے ہمارے جسم میں تریاقی ذرات پیدا کر دیئے اور اسی طرح وہ خدا رُوح پیدا کرتا ہے جس طرح مجھ میں اُس نے وہ پاک رُوح پھونک دی جس سے میں زندہ ہو گیا۔ہم صرف اس بات کے محتاج نہیں کہ وہ رُوح پیدا کر کے ہمارے جسم کو زندہ کرے بلکہ خود ہماری روح بھی ایک اور روح کی محتاج ہے جس سے وہ مُردہ روح زندہ ہو۔پس ان دونوں روحوں کو خدا ہی پیدا کرتا ہے جس نے اس راز کو نہیں سمجھا وہ خدا کی قدرتوں سے بے خبر اور خدا سے غافل ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۹۱،۳۹۰)