حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 256
۲۵۶ اور یہ عطیہ محض ہے کہ جو کسی عامل کے عمل پر موقوف نہیں۔تیسری صداقت رحیم ہے کہ جو بعد رحمن کے مذکور ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدائے تعالیٰ سعی کرنے والوں کی سعی پر بمقتضائے رحمت خاصہ ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے۔تو بہ کرنے والوں کے گناہ بخشتا ہے۔مانگنے والوں کو دیتا ہے۔کھٹکھٹانے والوں کے لئے کھولتا ہے۔چوتھی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے مالک یوم الدین ہے یعنی با کمال و کامل جزا سزا کہ جو ہر یک قسم کے امتحان و ابتلاء اور توسط اسباب غفلت افترا سے منزہ ہے اور ہر یک کدورت اور کثافت اور شک اور شبہ اور نقصان سے پاک ہے اور تجلیات عظمی کا مظہر ہے اس کا مالک بھی وہی اللہ قادر مطلق ہے اور وہ اس بات سے ہرگز عاجز نہیں کہ اپنی کامل جزا کو جو دن کی طرح روشن ہے ظہور میں لاوے اور اس صداقت عظمی کے ظاہر کرنے سے حضرت احدیت کا یہ مطلب ہے کہ تا ہر یک نفس پر بطور حق الیقین امور مفصلہ ذیل کھل جائیں۔اول یہ امر کہ جزا سزا ایک واقعی اور یقینی امر ہے کہ جو مالک حقیقی کی طرف سے اور اُسی کے ارادہ خاص سے بندوں پر وارد ہوتا ہے۔اور ایسا کھل جانا دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ اس عالم میں یہ بات عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی کہ جو کچھ خیر و شر و راحت و رنج پہنچ رہا ہے وہ کیوں پہنچ رہا ہے اور کس کے حکم اور اختیار سے پہنچ رہا ہے اور کسی کو ان میں سے یہ آواز نہیں آتی کہ وہ اپنی جزا پا رہا ہے اور کسی پر بطور مشهود ومحسوس منکشف نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ بھگت رہا ہے حقیقت میں وہ اس کے عملوں کا بدلہ ہے۔دوسرے اس صداقت میں اس امر کا کھلنا مطلوب ہے کہ اسباب عادیہ کچھ چیز نہیں ہیں اور فاعل حقیقی خدا ہے اور وہی ایک ذات عظمی ہے کہ جو جمیع فیوض کا مبدء اور ہر یک جزا سزا کا مالک ہے۔تیسرے اس صداقت میں اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ سعادت عظمی اور شقاوت عظمی کیا چیز ہے۔یعنی سعادت عظمیٰ وہ فوز عظیم کی حالت ہے کہ جب نور اور سرور اور لذت اور راحت انسان کے تمام ظاہر و باطن اور تن اور جان پر محیط ہو جائے اور کوئی عضو اور قوت اس سے باہر نہ رہے۔اور شقاوت عظمی وہ عذاب الیم ہے کہ جو بباعث نافرمانی اور ناپاکی اور بعد اور دُوری کے دلوں سے مشتعل ہو کر بدنوں پر مستولی ہو جائے اور تمام وجود فِى النَّارِ وَ السَّقَر معلوم ہو اور یہ تجلیات عظمیٰ اس عالم میں ظاہر نہیں ہوسکتیں کیونکہ اس تنگ اور منقبض اور مکدر عالم کو جور و پوش اسباب ہو کر ایک ناقص حالت میں پڑا ہے ان کے ظہور کی برداشت نہیں بلکہ اس عالم پر ابتلاء اور آزمائش غالب ہے۔اور اس کی راحت اور رنج دونوں نا پائیدار اور ناقص ہیں اور نیز اس عالم میں جو کچھ انسان پر وارد ہوتا ہے وہ زیر پردہ اسباب ہے جس سے