حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 255

۲۵۵ چیز کے لئے حاصل نہیں۔غرض عالم بجميع اجزائہ مخلوق اور خدا کی پیدائش ہے۔اور کوئی چیز اجزائے عالم میں سے ایسی نہیں کہ جو خدا کی پیدائش نہ ہو اور خدائے تعالیٰ اپنی ربوبیت تامہ کے ساتھ عالم کے ذرہ ذرہ پر متصرف اور حکمران ہے اور اس کی ربوبیت ہر وقت کام میں لگی ہوئی ہے۔یہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ دنیا کو بنا کر اُس کے انتظام سے الگ ہو بیٹھا ہے اور اُسے نیچر کے قاعدہ کے ایسا سپرد کیا ہے کہ خود کسی کام میں دخل بھی نہیں دیتا۔اور جیسے کوئی گل بعد بنائے جانے کے پھر بنانے والے سے بے علاقہ ہو جاتی ہے ایسا ہی مصنوعات صانع حقیقی سے بے علاقہ ہیں بلکہ وہ رب العالمین اپنی ربوبیت تامہ کی آبپاشی ہر وقت برابر تمام عالم پر کر رہا ہے اور اس کی ربوبیت کا مینہ بالا تصال تمام عالم پر نازل ہو رہا ہے اور کوئی ایسا وقت نہیں کہ اس کے رفح فیض سے خالی ہو بلکہ عالم کے بنانے کے بعد بھی اُس مبدء فیوض کی فی الحقیقت بلا ایک ذرہ تفاوت کے ایسی ہی حاجت ہے کہ گویا ابھی تک اُس نے کچھ بھی نہیں بنایا اور جیسا دنیا اپنے وجود اور نمود کے لئے اُس کی ربوبیت کی محتاج تھی ایسا ہی اپنے بقا اور قیام کے لئے اس کی ربوبیت کی حاجت مند ہے۔وہی ہے جو ہر دم دنیا کو سنبھالے ہوئے ہے اور دنیا کا ہر ذرہ اُسی سے تر و تازہ ہے اور وہ اپنی مرضی اور ارادہ کے موافق ہر چیز کی ربوبیت کر رہا ہے۔یہ نہیں کہ بلا ارادہ کسی شے کے ربوبیت کا موجب ہو۔غرض آیات قرآنی کی رُو سے جن کا خلاصہ ہم بیان کر رہے ہیں اس صداقت کا یہ منشا ہے کہ ہر یک چیز کہ جو عالم میں پائی جاتی ہے وہ مخلوق ہے اور اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور اپنے تمام اوقات میں خدائے تعالیٰ کی ربوبیت کی محتاج ہے اور کوئی روحانی یا جسمانی ایسا کمال نہیں ہے جس کو کوئی مخلوق خود بخود اور بغیر ارادہ خاص اُس متصرف مطلق کے حاصل کر سکتا ہو اور نیز حسب توضیح اسی کلام پاک کے اس صداقت اور ایسا ہی دوسری صداقتوں میں یہ معنے بھی ملحوظ ہیں کہ رب العالمين وغیرہ صفتیں جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں یہ اُسی کی ذات واحد لاشریک سے خاص ہے اور دوسرا کوئی ان میں شریک نہیں جیسا کہ اس سورۃ کے پہلے فقرہ میں یعنی الحَمدُ لِلہ میں یہ بیان ہو چکا ہے کہ تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں۔دوسری صداقت رحمن ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا۔اور رحمن کے معنے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بداُن سب کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے ان کی تکمیل کے لئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کے رُو سے ہر ایک قسم کے اسباب مطلوبہ میٹر کر دیئے ہیں اور ہمیشہ میئر کرتا رہتا ہے۔