حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 253

۲۵۳ پہنچتا ہے کہ جو سچائی کی راہ پر کامل طور پر قدم مارتے ہیں۔اور اپنے نفس کے ارادوں اور خواہشوں سے الگ ہو کر بکلی خدا کی طرف جھک جاتے ہیں۔کیونکہ مرنے سے پہلے مرتے ہیں اور اگر چہ بظاہر صورت اس عالم میں ہیں لیکن درحقیقت وہ دوسرے عالم میں سکونت رکھتے ہیں۔پس چونکہ وہ اپنے دل کو اس دنیا کے اسباب سے منقطع کر لیتے ہیں اور عادات بشریت کو توڑ کر اور بیکبارگی غیر اللہ سے منہ پھیر کر وہ طریق جو خارق عادت ہے اختیار کر لیتے ہیں اس لئے خداوند کریم بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور بطور خارق عادت ان پر اپنے وہ انوار خاصہ ظاہر کرتا ہے کہ جو دوسروں پر بجز موت کے ظاہر نہیں ہو سکتے۔غرض بباعث امور متذکرہ بالا وہ اس عالم میں بھی فیضانِ اخص کے نور سے کچھ حصہ پالیتے ہیں۔اور یہ فیضان ہر یک فیض سے خاص تر اور خاتمہ تمام فیضانوں کا ہے اور اس کو پانے والا سعادت عظمیٰ کو پہنچ جاتا ہے اور خوشحالی دائی کو پالیتا ہے کہ جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے اور جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہمیشہ کے دوزخ میں پڑا۔اس فیضان کے رُو سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنا نام مَالِكِ يَوْمِ الدِّين بیان فرمایا ہے۔دین کے لفظ پر الف لام لانے سے یہ غرض ہے کہ تا یہ معنے ظاہر ہوں کہ جزا سے مراد وہ کامل جزا ہے جس کی تفصیل فرقان مجید میں مندرج ہے۔اور وہ کامل جزا بجز تحبی مالکیت تامہ کے کہ جو ہمدم بنیان اسباب کو مستلزم ہے ظہور میں نہیں آ سکتی۔چنانچہ اسی کی طرف دوسری جگہ بھی اشارہ فرما کر کہا ہے لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ یعنی اس دن ربوبیت الہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تجلی آپ دکھلائے گی اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجز قوت عظمیٰ اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالیٰ کے اور سب بیچ ہیں۔تب سارا آرام وسرور اور سب جزا اور پاداش بنظر صاف و صریح خدائی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پردہ اور حجاب درمیان میں نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی۔تب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کر لیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہو گا کہ جو اس سعادت عظمی کے پانے سے بے نصیب رہا ہو اور اس جگہ مالک یوم الدین کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس روز راحت یا عذاب اور لذت یا درد جو کچھ بنی آدم کو پہنچے گا اس کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی ذات ہوگی اور مالک امر مجازات کا حقیقی طور پر وہی ہو گا یعنی اس کا وصل یا فصل سعادت ابدی یا شقاوت ابدی کا موجب ٹھہرے گا۔اس طرح پر المؤمن:۱۷