حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 16
۱۶ میرے پر نازل ہوتی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے نہ شیطان کی طرف سے۔میں اس پر ایسا ہی یقین رکھتا ہوں جیسا کہ آفتاب اور ماہتاب کے وجود پر یا جیسا کہ اس بات پر کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ہاں جب میں اپنی طرف سے کوئی اجتہاد کروں یا اپنی طرف سے کسی الہام کے معنے کروں تو ممکن ہے کہ کبھی اس معنی میں غلطی بھی کھاؤں۔مگر میں اس غلطی پر قائم نہیں رکھا جاتا۔اور خدا کی رحمت جلد تر مجھے حقیقی انکشاف کی راہ دکھا دیتی ہے اور میری روح خدا کے فرشتوں کی گود میں پرورش پاتی ہے۔تبلیغ رسالت جلد ہشتم صفحه ۶۴ ، ۶۵ - مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۰۶، ۳۰۷ بار دوم ) وجذ بني ربي اليه و احسن مثواى واسبغ عَلَيَّ من نعماء الدين و قادني من تدنّسات الـدنـيـا الـى حظيرة قدسه و اعطانى ما اعطانى وجعلنى من الملهمين المحدثين۔فما كان عندى من مال الدنيا و خيلها وأفراسها غير أنى أعطيتُ جياد الاقلام و رُزقت جواهر الكلام وأعطيتُ من نورٍ يؤمننى العثار و يبين لي الآثار۔فهذه الدولة الالهية السماوية وقد أغنتني و جبرت عيلتی و اضاء تنی و نورت لیلتی و ادخلتني في المُنْعَمِین۔اور میرے رب نے اپنی طرف مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی۔اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا۔اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے نکال کر اپنی مقدس جگہ میں لے آیا اور مجھے اُس نے دیا جو کچھ دیا اور مجھے ملہموں اور محدثوں میں سے کر دیا۔سو میرے پاس دنیا کا مال اور دنیا کے گھوڑے اور دنیا کے سوار تو نہیں تھے بجز اس کے کہ عمدہ گھوڑے قلموں کے مجھ کو عطا کئے گئے اور کلام کے جواہر مجھ کو دیئے گئے اور وہ نور مجھ کو عطا ہوا جو مجھے لغزش سے بچاتا اور راست روی کے آثار مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔پس اس الہی اور آسمانی دولت نے مجھے غنی کر دیا اور میرے افلاس کا تدارک کیا اور مجھے روشن کیا۔اور میری رات کو منور کر دیا اور مجھے منعموں میں داخل کیا۔(نور الحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۹،۳۸) میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نور خدا جس سے ہوا دن آشکار براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۴۵) میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ میرا کون ساعمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے