حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 240
۲۴۰ خدا انسان سے مشابہہ ہے اس لئے خدا نے ان صفات کے مقابل پر قرآن شریف میں اپنی تنزیہی صفات کا بھی ذکر کر دیا یعنی ایسی صفات کا ذکر کیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو اپنی ذات اور صفات میں کچھ بھی شراکت انسان کے ساتھ نہیں اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کچھ مشارکت ہے۔نہ اُس کا خلق یعنی پیدا کرنا انسان کی خلق کی طرح ہے۔نہ اس کا رحم انسان کے رحم کی طرح ہے۔نہ اس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے۔نہ اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے۔نہ وہ انسان کی طرح کسی مکان کا محتاج ہے۔اور یہ ذکر یعنی خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے۔جیسا کہ ایک یہ آیت ہے لَيْسَ كَمِثْلِ شَيْءٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ یعنی کوئی چیز اپنی ذات اور صفات میں خدا کی شریک نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔اور پھر ایک جگہ فرمایا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةَ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔ترجمه حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لئے ہیں اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں۔وہی بذاتہ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعے سے ہیں۔اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اس پر جائز نہیں ایسا ہی ادنی درجہ کا تعطل حواس بھی جو نیند اور اونگھ سے ہے وہ بھی اس پر جائز نہیں مگر دوسروں پر جیسا کہ موت وارد ہوتی ہے نیند اور اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔جو کچھ تم زمین میں دیکھتے ہو یا آسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے۔کون ہے جو بغیر اس کے حکم کے اس کے آگے شفاعت کر ہے۔وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے۔اور کوئی اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔اس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے۔وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔یہ نہیں کہ کسی چیز نے اس کو اٹھا رکھا ہے۔اور وہ آسمان وزمین اور ان کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ سکتا۔الشورى : ١٢ البقرة: ۲۵۶