حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 239
۲۳۹ دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑ اساتھ تو نے اے میرے حاجت برار اے مرے یاریگا نہ اے مری جاں کی پسند بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار میں تو مر کر خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۲۷) خدا تعالیٰ نے عاجز انسانوں کو اپنی کامل معرفت کا علم دینے کے لئے اپنی صفات کو قرآن شریف میں دو رنگ پر ظاہر کیا ہے۔(۱) اوّل اس طور پر بیان کیا ہے جس سے اس کی صفات استعارہ کے طریق پر مخلوق کی صفات کی ہم شکل ہیں۔جیسا کہ وہ کریم رحیم ہے۔محسن ہے اور وہ غضب بھی رکھتا ہے اور اُس میں محبت بھی ہے اور اس کے ہاتھ بھی ہیں اور اس کی آنکھیں بھی ہیں اور اس کی ساقین بھی ہیں اور اُس کے کان بھی ہیں اور نیز یہ کہ قدیم سے سلسلہ مخلوق کا اس کے ساتھ چلا آیا ہے مگر کسی چیز کو اس کے مقابل پر قدامت شخصی نہیں ہاں قدامت نوعی ہے اور وہ بھی خدا کی صفت خلق کے لئے ایک لازمی امر نہیں کیونکہ جیسا کہ خلق یعنی پیدا کرنا اس کی صفات میں سے ہے ایسا ہی کبھی اور کسی زمانہ میں تجلی وحدت اور تجرد اس کی صفات میں سے ہے اور کسی صفت کے لئے تعطل دائی جائز نہیں ہاں تعطل میعادی جائز ہے۔غرض چونکہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے اپنی ان تشبیہی صفات کو اُس پر ظاہر کیا جن صفات کے ساتھ انسان بظاہر شراکت رکھتا ہے۔جیسے خالق ہونا کیونکہ انسان بھی اپنی حد تک بعض چیزوں کا خالق یعنی موجد ہے۔ایسا ہی انسان کو کریم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک کرم کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا اور اسی طرح انسان کو رحیم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک قوتِ رحم بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور قوت غضب بھی اس میں ہے۔ایسا ہی آنکھ کان وغیرہ سب انسان میں موجود ہیں۔پس ان تشیبی صفات سے کسی کے دل میں شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا انسان ان صفات میں خدا سے مشابہہ ہے اور