حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 236

۲۳۶ آلودگیوں سے ملوث ہوتا رہا ہے کہ جو ان چیزوں کے عائد حال ہیں اور نیز انہیں چیزوں کی طرح بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور خوف اور غم اور بیماری اور موت اور ذلت اور رسوائی اور عاجزی اور ناتوانی کی آفات میں گرفتار ہوتا رہا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ تمام اعتقادات خدائے تعالیٰ کی خوبیوں میں بٹہ لگاتے ہیں اور اس کے ازلی و ابدی جاہ و جلال کو گھٹاتے ہیں۔اور آریہ سماج والے جو اُن کے مہذب بھائی نکلے ہیں جن کا یہ گمان ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک وید کی لکیر پر چلتے ہیں وہ خدائے تعالیٰ کو خالقیت سے ہی جواب دیتے ہیں اور تمام روحوں کو اُس کی ذات کامل کی طرح غیر مخلوق اور واجب الوجود اور موجود بوجود حقیقی قرار دیتے ہیں۔حالانکہ عقل سلیم خدائے تعالیٰ کی نسبت صریح یہ نقص سمجھتی ہے کہ وہ دنیا کا مالک کہلا کر پھر کسی چیز کا ربّ اور خالق نہ ہو اور دنیا کی زندگی اس کے سہارے سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی وجوب کے رُو سے ہو۔اور جب عقل سلیم کے آگے یہ دونوں سوال پیش کئے جائیں کہ آیا خداوند قادر مطلق کے محامد تامہ کے لئے یہ بات اصلح اور انسب ہے کہ وہ آپ ہی اپنی قدرت کاملہ سے تمام موجودات کو منصہ ظہور میں لاکر ان سب کا رب اور خالق ہو اور تمام کائنات کا سلسلہ اسی کی ربوبیت تک ختم ہوتا ہو اور خالقیت کی صفت اور قدرت اُس کی ذات کامل میں موجود ہو اور پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہو یا یہ باتیں اُس کی شان کے لائق ہیں کہ جس قدر مخلوقات اس کے قبضہ تصرف میں ہیں یہ چیزیں اس کی مخلوق نہیں ہیں اور نہ اس کے سہارے سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور نہ اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہیں اور نہ وہ اُن کا خالق اور رب ہے اور نہ خالقیت کی صفت اور قدرت اُس میں پائی جاتی ہے اور نہ پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہے تو ہر گز عقل یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ وہ جو دنیا کا مالک ہے وہ دنیا کا پیدا کنندہ نہیں اور ہزاروں پر حکمت صفتیں کہ جو روحوں اور جسموں میں پائی جاتی ہیں وہ خود بخود ہیں اور ان کا بنانے والا کوئی نہیں اور خدا جو اِن سب چیزوں کا مالک کہلاتا ہے وہ فرضی طور پر مالک ہے۔اور نہ یہ فتویٰ دیتی ہے کہ اُس کو پیدا کرنے سے عاجز سمجھا جاوے یا ناطاقت اور ناقص ٹھہرایا جاوے یا پلیدی اور نجاست خواری کی نالائق اور فتیح عادت کو اس کی طرف منسوب کیا جائے یا موت اور درد اور دکھ اور بے علمی اور جہالت کو اُس پر روا رکھا جائے بلکہ صاف یہ شہادت دیتی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان تمام رذیلتوں اور نقصانوں سے پاک ہونا چاہئے اور اُس میں کمالِ تام چاہئے۔اور کمال تام قدرت تام سے مشروط ہے اور جب خدائے تعالیٰ میں قدرت تام نہ رہی اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کر سکا اور نہ اپنی ذات کو ہر ایک قسم کے نقصان اور عیب سے بچا سکا تو اُس میں کمالِ تام بھی نہ