حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 235
۲۳۵ مواعید کے برخلاف ہیں۔اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں اور اس تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے۔( رساله الوصیت - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۹ تا ۳۱۱) الْحَمْدُ لِله - تمام محامد اس ذات معبود برحق مستجمع جمیع صفات کاملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور مستجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رزائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ہے ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے۔اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف۔اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کاملہ پر مشتمل ہے۔پس خلاصہ مطلب اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں۔اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔اور نیز جس قد ر حامد صحیحہ اور کمالات تامہ کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لاسکتا ہے وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے مگر اللہ تعالیٰ بدقسمت انسان کی طرح اُس خوبی سے محروم ہو بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رذائل سے بکلی منزہ ہے۔اب دیکھو یہ ایسی صداقت ہے جس سے سچا اور جھوٹا مذہب ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ تمام مذہبوں پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ بجز اسلام دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو جمیع رذائل سے منزہ اور تمام محامد کاملہ سے متصف سمجھتا ہو۔عام ہندو اپنے دیوتاؤں کو کارخانہ ربوبیت میں شریک سمجھتے ہیں اور خدا کے کاموں میں ان کو مستقل طور پر دخیل قرار دیتے ہیں بلکہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خدا کے ارادوں کو بدلنے والے اور اس کی تقدیروں کو زیر وزبر کرنے والے ہیں اور نیز ہندو لوگ کئی انسانوں اور دوسرے جانوروں کی نسبت بلکہ بعض نا پاک اور نجاست خوار حیوانات یعنی خنزیز وغیرہ کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ کسی زمانہ میں اُن کا پر میشر ایسی ایسی جونوں میں تولد پاکر ان تمام آلائشوں اور