حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 234
۲۳۴ اے سننے والوسنو ! ! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جواب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔بلکہ وہ سنتا اور بولتا بھی ہے۔اُس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہو گی۔وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں۔وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے اور ڈور ہے باوجود نزدیک ہونے کے۔وہ تمثل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔وہ مجمع ہے تمام صفات کا ملہ کا اور مظہر ہے تمام محامد حقہ کا اور سر چشمہ ہے تمام خوبیوں کا اور جامع ہے تمام طاقتوں کا اور مبدء ہے تمام فیضوں کا اور مرجع ہے ہر ایک شے کا۔اور مالک ہے ہر ایک ملک کا اور متصف ہے ہر ایک کمال سے اور منزہ ہے ہر ایک عیب اور ضعف سے۔اور مخصوص ہے اس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اسی کی عبادت کریں اور اس کے آگے کوئی بات بھی ان ہونی نہیں۔اور تمام روح اور ان کی طاقتیں اور تمام ذرات اور ان کی طاقتیں اُسی کی پیدائش ہیں۔اس کے بغیر کوئی چیز ظاہر نہیں ہوتی۔وہ اپنی طاقتوں اور اپنی قدرتوں اور اپنے نشانوں سے اپنے تئیں آپ ظاہر کرتا ہے اور اس کو اُسی کے ذریعہ سے ہم پاسکتے ہیں۔اور وہ راستبازوں پر ہمیشہ اپنا وجود ظاہر کرتا رہتا ہے اور اپنی قدرتیں ان کو دکھلاتا ہے۔اسی سے وہ شناخت کیا جاتا اور اُسی سے اس کی پسندیدہ راہ شناخت کی جاتی ہے۔وہ دیکھتا ہے بغیر جسمانی آنکھوں کے۔اور سُنتا ہے بغیر جسمانی کانوں کے اور بولتا ہے بغیر جسمانی زبان کے۔اسی طرح نیستی سے ہستی کرنا۔اس کا کام ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ خواب کے نظارہ میں بغیر کسی مادہ کے ایک عالم پیدا کر دیتا ہے اور ہر ایک فانی اور معدوم کو موجود دکھلا دیتا ہے۔پس اسی طرح اس کی تمام قدرتیں ہیں۔نادان ہے وہ جو اس کی قدرتوں سے انکار کرے۔اندھا ہے وہ جو اس کی عمیق طاقتوں۔بے خبر ہے۔وہ سب کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے بغیر ان امور کے جو اُس کی شان کے مخالف ہیں یا اس کے