حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 227

۲۲۷ وہ خدا جو تمام نبیوں پر ظاہر ہوتا رہا اور حضرت موسی کلیم اللہ پر بمقام طور ظاہر ہوا اور حضرت مسیح پر شعیر کے پہاڑ پر طلوع فرمایا اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر فاران کے پہاڑ پر چپکا وہی قادر قدوس خدا میرے پر تجلی فرما ہوا ہے۔اُس نے مجھ سے باتیں کیں اور مجھے فرمایا کہ وہ اعلیٰ وجود جس کی پرستش کے لئے تمام نبی بھیجے گئے میں ہوں۔میں اکیلا خالق اور مالک ہوں اور کوئی میرا شریک نہیں۔اور میں پیدا ہونے اور مرنے سے پاک ہوں۔(ضمیمہ رسالہ جہاد۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۲۹) وہ پاک زندگی جو گناہ سے بیچ کر ملتی ہے وہ ایک لعلِ تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے ہاں خدا تعالیٰ نے وہ لعلِ تاباں مجھے دیا ہے اور مجھے اُس نے مامور کیا ہے کہ میں دنیا کو اس لعلِ تاباں کے حصول کی راہ بتا دوں۔اس راہ پر چل کر میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص یقینا یقیناً اس کو حاصل کر لے گا اور وہ ذریعہ اور وہ راہ جس سے یہ ملتا ہے ایک ہی ہے جس کو خدا کی سچی معرفت کہتے ہیں۔در حقیقت یہ مسئلہ بڑا مشکل اور نازک مسئلہ ہے۔کیونکہ ایک مشکل امر پر موقوف ہے۔فلاسفر جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ و محکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتاتا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہئے مگر میں اس سے بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربوں کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا ہے۔الحکم مورخہ ۱۷ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۴،۳۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۱۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۹ اصفحہ ۲۲٬۲۱)