حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 223
۲۲۳ طالب حق ہے تو ہمارے زندہ خدا اور اپنے مُردہ خدا کا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس با ہم امتحان کے لئے چالیس دن کافی ہیں۔تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۱۳ تا ۱۵- مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۱ تا ۱۳ بار دوم ) وہ اسلام جس کی خوبیاں ہم بیان کر چکے ہیں وہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے ثبوت کے لئے ہم صرف گذشتہ کا حوالہ دیں۔اور محض قبروں کے نشان دکھلائیں۔اسلام مردہ مذہب نہیں تا یہ کہا جائے کہ اس کی سب برکات پیچھے رہ گئی ہیں اور آگے خاتمہ ہے۔اسلام میں بڑی خوبی یہی ہے کہ اس کی برکات ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں۔اور وہ صرف گذشتہ حصوں کے کا سبق نہیں دیتا بلکہ موجودہ برکات پیش کرتا ہے۔دنیا کو برکات اور آسمانی نشانوں کی ہمیشہ ضرورت ہے۔یہ نہیں کہ پہلے تھیں اور اب نہیں ہیں۔ضعیف اور عاجز انسان جو اندھے کی طرح پیدا ہوتا ہے ہمیشہ اس بات کا محتاج ہے کہ آسمانی بادشاہت کا اس کو کچھ پتہ لگے اور وہ خدا جس کے وجود پر ایمان ہے اُس کی ہستی اور قدرت کے کچھ آثار بھی ظاہر ہوں۔پہلے زمانہ کے نشان دوسرے زمانہ کے لئے کافی نہیں ہو سکتے کیونکہ خبر معائنہ کی مانند نہیں ہو سکتی اور امتدادِ زمانہ سے خبریں ایک قصہ کے رنگ میں ہو جاتی ہیں۔ہر ایک نئی صدی جو آتی ہے تو گویا ایک نئی دنیا شروع ہوتی ہے اس لئے اسلام کا خدا جو سچا خدا ہے ہر ایک نئی دنیا کے لئے نئے نشان دکھلاتا ہے اور ہر یک صدی کے سر پر اور خاص کر ایسی صدی کے سر پر جو ایمان اور دیانت سے دُور پڑ گئی ہے اور بہت سی تاریکیاں اپنے اندر رکھتی ہے ایک قائم مقام نبی کا پیدا کر دیتا ہے جس کے آئینہ فطرت میں نبی کی شکل ظاہر ہوتی ہے اور وہ قائم مقام نبی متبوع کے کمالات کو اپنے وجود کے توسط سے لوگوں کو دکھلاتا ہے اور تمام مخالفوں کو سچائی اور حقیقت نمائی اور پردہ دری کے رُو سے ملزم کرتا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۴۵ تا ۲۴۷) بچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ اس مذہب کی تعلیم سے ایسے راستباز پیدا ہوتے رہیں جو محدث کے مرتبہ تک پہنچ جائیں جن سے خدا تعالیٰ آمنے سامنے کلام کرے۔اور اسلام کی حقیت اور حقانیت کی اوّل نشانی یہی ہے کہ اس میں ہمیشہ ایسے راستباز جن سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہو پیدا ہوتے ہیں۔تَتَنَزَلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا کے سو یہی معیار حقیقی بچے اور زندہ اور مقبول مذہب کی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ نور صرف اسلام میں ہے۔عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے۔(حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۳) ے سہو کتابت ہے یہ لفظ ” قصوں معلوم ہوتا ہے۔حم السجدة : ٣١