حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 221
۲۲۱ کے وسیلہ سے ہم اس پاک مذہب میں داخل ہوئے اور ہزار ہا رحمتیں نبی کریم کے اصحاب پر ہوں جنہوں نے اپنے خونوں سے اس باغ کی آبپاشی کی۔اسلام ایک ایسا با برکت اور خدا نما مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص بچے طور پر اس کی پابندی اختیار کرے اور اُن تعلیموں اور ہدایتوں اور وصیتوں پر کار بند ہو جائے جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام قرآن شریف میں مندرج ہیں تو وہ اسی جہان میں خدا کو دیکھ لے گا۔وہ خدا جو دنیا کی نظر سے ہزاروں پر دوں میں ہے اس کی شناخت کے لئے بجز قرآنی تعلیم کے اور کوئی بھی ذریعہ نہیں۔قرآن شریف معقولی رنگ میں اور آسمانی نشانوں کے رنگ میں نہایت سہل اور آسان طریق سے خدائے تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور اس میں ایک برکت اور قوت جاذبہ ہے جو خدا کے طالب کو دم بدم خدا کی طرف کھینچتی اور روشنی اور سکینت اور اطمینان بخشتی ہے اور قرآن شریف پر سچا ایمان لانے والا صرف فلسفیوں کی طرح یہ ظن نہیں رکھتا کہ اس پر حکمت عالم کا بنانے والا کوئی ہونا چاہئے بلکہ وہ ایک ذاتی بصیرت حاصل کر کے اور ایک پاک رؤیت سے مشرف ہو کر یقین کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے کہ فی الواقع وہ صانع موجود ہے۔اور اس پاک کلام کی روشنی حاصل کرنے والا محض خشک معقولیوں کی طرح یہ گمان نہیں رکھتا کہ خدا واحد لاشریک ہے بلکہ صد ہا چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ جو اس کا ہاتھ پکڑ کر ظلمت سے نکالتے ہیں واقعی طور پر مشاہدہ کر لیتا ہے کہ در حقیقت ذات اور صفات میں خدا کا کوئی بھی شریک نہیں۔اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ عملی طور پر دنیا کو دکھا دیتا ہے کہ وہ ایسا ہی خدا کو سمجھتا ہے اور وحدت الہی کی عظمت ایسی اُس کے دل میں سما جاتی ہے کہ وہ الہی ارادہ کے آگے تمام دنیا کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بلکہ مطلق لائے اور سراسر کالعدم سمجھتا ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۶،۲۵) بچے مذہب کا خدا ایسا مطابق عقل اور نور فطرت چاہئے کہ جس کا وجود ان لوگوں پر بھی حجت ہو سکے جو عقل تو رکھتے ہیں مگر ان کو کتاب نہیں ملی۔غرض وہ خدا ایسا چاہئے جس میں کسی زبر دستی اور بناوٹ کی بُو نہ پائی جائے۔سویا در ہے کہ یہ کمال اس خدا میں ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔اور تمام دنیا کے تمام مذہب والوں نے یا تو اصل خدا کو بالکل چھوڑ دیا ہے جیسا کہ عیسائی اور یا نا واجب صفات اور اخلاق ذمیمہ اس کی طرف منسوب کر دیے ہیں جیسا کہ یہودی ، اور یا واجب صفات سے اس کو علیحدہ کر دیا ہے جیسا کہ مشرکین اور آریہ۔مگر اسلام کا خدا وہی سچا خدا ہے جو آئینہ قانون قدرت اور صحیفہ فطرت سے