حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 219

۲۱۹ اپنے مولیٰ کا سچا طالب کامل طور پر اسلام پر قائم ہو جائے اور نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے بلکہ طبعی طور پر خدا تعالیٰ کی راہوں میں ہر ایک قوت اس کے کام میں لگ جائے تو آخری نتیجہ اُس کی اس حالت کا یہ ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی اعلیٰ تجلیات تمام حجب سے مبرا ہو کر اُس کی طرف رُخ کرتی ہیں۔اور طرح طرح کی برکات اُس پر نازل ہوتی ہیں اور وہ احکام اور وہ عقائد جو محض ایمان اور سماع کے طور پر قبول کئے گئے تھے۔اب بذریعہ مکاشفات صحیحہ اور الہامات۔یقینہ قطعیہ مشہود اور محسوس طور پر کھولے جاتے ہیں۔اور مغلقات شرع اور دین کے اور اسرار سر بستہ ملت حنیفیہ کے اس پر منکشف ہو جاتے ہیں اور ملکوت الہی کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے تا وہ یقین اور معرفت میں مرتبہ کامل حاصل کرے اور اس کی زبان اور اس کے بیان اور تمام افعال اور اقوال اور حرکات سکنات میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور ایک فوق العادت شجاعت اور استقامت اور ہمت اس کو عطا کی جاتی ہے اور شرح صدر کا ایک اعلیٰ مقام اس کو عنایت کیا جاتا ہے اور بشریت کے حجابوں کی تنگ دلی اور خست اور بخل اور بار بار کی لغزش اور تنگ چشمی اور غلامی شہوات اور رداءت اخلاق اور ہر ایک قسم کی نفسانی تاریکی بکلی اس سے دُور کر کے اُس کی جگہ ربانی اخلاق کا نور بھر دیا جاتا ہے۔تب وہ بکلی مبدل ہو کر ایک نئی پیدائش کا پیرا یہ پہن لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے سُنتا اور خدائے تعالیٰ سے دیکھتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ حرکت کرتا اور خدا تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرتا ہے اور اُس کا غضب خدائے تعالیٰ کا غضب اور اس کا رحم خدائے تعالیٰ کا رحم ہو جاتا ہے۔اور اس درجہ میں اُس کی دُعائیں بطور اصطفاء کے منظور ہوتی ہیں نہ بطور ابتلا کے۔اور وہ زمین پر حجت اللہ اور امان اللہ ہوتا ہے اور آسمان پر اس کے وجود سے خوشی کی جاتی ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عطیہ جو اس کو عطا ہوتا ہے مکالمات الہیہ اور مخاطبات حضرت یزدانی ہیں جو بغیر شک اور شبہ اور کسی غبار کے چاند کے نور کی طرح اُس کے دل پر نازل ہوتے رہتے ہیں۔اور ایک شدید الاثر لذت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔اور طمانیت اور تسلی اور سکینت بخشتے ہیں۔اور اس کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ رُوح القدس کے بلائے بولتے اور روح القدس کے دکھائے دیکھتے اور روح القدس کے سُنائے سُنتے اور ان کے تمام ارادے رُوح القدس کے نفخ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ وہ ظلی طور پر اس آیت کا مصداق ہوتے ہیں وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى - إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی لے لیکن مکالمہ البہیہ ایک الگ امر ہے۔اور وہ یہ ہے کہ النجم :۵،۴