حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 214
۲۱۴ سے ہے انسان کی طرح کسی مادہ کا محتاج ہے تو کیا وجہ کہ وہ اپنی صفت شنوائی اور بینائی وغیرہ میں انسان کی طرح کسی مادہ کا محتاج نہیں۔انسان بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتا اور بغیر توسط روشنی کے کچھ دیکھ نہیں سکتا۔پس کیا پر میشر بھی ایسی کمزوری اپنے اندر رکھتا ہے؟ اور وہ بھی سننے اور دیکھنے کے لئے ہوا اور روشنی کا محتاج ہے؟ پس اگر وہ ہوا اور روشنی کا محتاج نہیں تو یقینا سمجھو کہ وہ صفت پیدا کرنے میں بھی کسی مادہ کا محتاج نہیں۔یہ منطق سراسر جھوٹ ہے کہ خدا اپنی صفات کے اظہار میں کسی مادہ کا محتاج ہے۔انسانی صفات کا خدا پر قیاس کرنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی اور انسانی کمزور یوں کو خدا پر جمانا بڑی غلطی ہے۔انسان کی ہستی محدود اور خدا کی ہستی غیر محدود ہے۔پس وہ اپنی ہستی کی قوت سے ایک اور ہستی پیدا کر لیتا ہے۔یہی تو خدائی ہے اور وہ اپنی کسی صفت میں مادہ کا محتاج نہیں ہے ورنہ وہ خدا نہ ہو۔کیا اس کے کاموں میں کوئی روک ہو سکتی ہے؟ اور اگر مثلاً چاہے کہ ایک دم میں زمین و آسمان پیدا کر دے تو کیا وہ پیدا نہیں کر سکتا۔ہندؤں میں جو لوگ علم کے ساتھ روحانیت کا بھی حصہ رکھتے تھے اور نری خشک منطق میں گرفتار نہ تھے۔کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا جو آج کل پر میشر کی نسبت آریہ صاحبان نے پیش کیا ہے۔یہ سراسر عدم روحانیت کا نتیجہ ہے۔غرض یہ تمام بگاڑ کہ ان مذاہب میں پیدا ہو گئے جن میں سے بعض ذکر کے بھی قابل نہیں۔اور جو انسانی پاکیزگی کے بھی مخالف ہیں۔اور یہ تمام علامتیں ضرورت اسلام کے لئے تھیں۔ایک عقلمند کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام سے کچھ دن پہلے تمام مذاہب بگڑ چکے تھے اور روحانیت کو کھو چکے تھے۔پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی صلعم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا۔اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفر ۳ ۲۰ تا ۲۰۶) اب قبل اس کے جو ہم دوسری بحثوں کی طرف توجہ کریں اس بحث کا لکھنا نہایت ضروری ہے جو دین اسلام کی حقیقت کیا ہے اور اس حقیقت تک پہنچنے کے وسائل کیا ہیں اور اس حقیقت پر پابند ہونے کے ثمرات کیا ہیں؟ کیونکہ بہت سے اسرار دقیقہ کا سمجھنا اسی بات پر موقوف ہے کہ پہلے حقیقت اسلام اور پھر اس حقیقت کے وسائل اور پھر اس کے ثمرات بخوبی ذہن نشین ہو جائیں اور ہمارے اندرونی مخالفوں کے لئے یہ بات نہایت فائدہ مند ہو گی کہ وہ حقیقت اسلام اور اس کے ابحاث متعلقہ کو توجہ سے پڑھیں