حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 213

۲۱۳ سے کچھ بہرہ نہ تھا اور جن کے نفس امارہ سفلی زندگی کی آلائشوں سے پاک نہ تھے اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق ان مذاہب کے اندر بے جا دخل دے کر ایسی صورت اُن کی بگاڑ دی کہ اب وہ کچھ اور ہی چیز ہیں مثلاً عیسائیت کے مذہب کو دیکھو کہ وہ ابتدا میں کیسے پاک اصول پر مبنی تھا اور جس تعلیم کو حضرت مسیح علیہ السلام نے پیش کیا تھا اگر چہ وہ تعلیم قرآنی تعلیم کے مقابل پر ناقص تھی کیونکہ ابھی کامل تعلیم کا وقت نہیں آیا تھا اور کمزور استعداد میں اِس لائق بھی نہ تھیں تاہم وہ تعلیم اپنے وقت کے مناسب حال نہایت عمدہ تعلیم تھی وہ اُسی خدا کی طرف رہنمائی کرتی تھی جس کی طرف توریت نے رہنمائی کی لیکن حضرت مسیح کے بعد مسیحیوں کا خدا ایک اور خدا ہو گیا جس کا توریت کی تعلیم میں کچھ بھی ذکر نہیں اور نہ بنی اسرائیل کو اس کی کچھ بھی خبر ہے۔اس نئے خدا پر ایمان لانے سے تمام سلسلہ توریت کا اُلٹ گیا اور گناہوں سے حقیقی نجات اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے جو ہدایتیں تو رات میں تھیں وہ سب درہم برہم ہو گئیں اور تمام مدار گناہ سے پاک ہونے کا اس اقرار پر آ گیا کہ حضرت مسیح نے دنیا کو نجات دینے کے لئے خود صلیب قبول کی۔اور وہ خدا ہی تھے۔اور نہ صرف اسی قدر بلکہ توریت کے اور کئی ابدی احکام توڑ دیئے گئے۔اور عیسائی مذہب میں ایک ایسی تبدیلی واقعہ ہوئی کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی دوبارہ تشریف لے آویں تو وہ اس مذہب کو شناخت نہ کر سکیں۔نہایت حیرت کا مقام ہے کہ جن لوگوں کو توریت کی پابندی کی سخت تاکید تھی انہوں نے یک لخت توریت کے احکام کو چھوڑ دیا۔مثلاً انجیل میں کہیں حکم نہیں کہ توریت میں تو سور حرام ہے اور میں تم پر حلال کرتا ہوں۔اور توریت میں تو ختنہ کی تاکید ہے اور میں ختنہ کا حکم منسوخ کرتا ہوں۔پھر کب جائز تھا کہ جو باتیں حضرت عیسی علیہ السلام کے منہ سے نہیں نکلیں وہ مذہب کے اندر داخل کر دی جائیں۔لیکن چونکہ ضرور تھا کہ خدا ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام دنیا میں قائم کرے اس لئے عیسائیت کا بگڑنا اسلام کے ظہور کے لئے بطور ایک علامت کے تھا۔یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے ہندو مذہب بھی بگڑ چکا تھا اور تمام ہندوستان میں عام طور پر بت پرستی رائج ہو چکی تھی۔اور اس بگاڑ کے یہ آثار باقیہ ہیں کہ وہ خدا جو اپنی صفات کے استعمال میں کسی مادہ کا محتاج نہیں اب آریہ صاحبوں کی نظر میں وہ پیدائش مخلوقات میں ضرور مادہ کا محتاج ہے۔اس فاسد عقیدہ سے ان کو ایک دوسرا فاسد عقیدہ بھی جو شرک سے بھرا ہوا ہے قبول کرنا پڑا یعنی یہ کہ تمام ذرات عالم اور تمام ارواح قدیم اور انادی ہیں۔مگر افسوس کہ اگر وہ ایک نظر غامر خدا کی صفات پر ڈالتے تو ایسا کبھی نہ کہہ سکتے۔کیونکہ اگر خدا پیدا کرنے کی صفت میں جو اس کی ذات میں قدیم