حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 12

۱۲ پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہو اؤ السَّمَاءِ وَ الطَّارِق یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔سبحان اللہ ! کیا شان خدا وند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے اُس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی عزا پر سی کیا معنی رکھتی ہے۔مگر یاد رہے کہ حضرت عزت جل شانہ جب کسی کو رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا ہنسنا بھی جو حدیثوں میں آیا ہے۔انہی معنوں کے لحاظ سے ہے۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلاء ہمیں پیش آئے گا۔تب اُسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا۔أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں دھنس گیا۔پس مجھے اس خدائے عز وجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشر انہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہو گا۔میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں۔اور میرے والد صاحب اُسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے یہ ایک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا۔جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔میں نے اس الہام کو انہی دنوں میں ایک نگینہ میں کھدوا کر اُس کی انگشتری بنائی جو بڑی حفاظت سے اب تک رکھی ہوئی ہے۔غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔ایک طرف اُن کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔) کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۶۲ تا ۱۹۵ حاشیه)