حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 207

۲۰۷ نہیں کیا جاتا اور ایک فریق دوسرے فریق پر نہ انسانیت سے بلکہ کتوں کی طرح حملہ کرتا ہے اور مذہبی حمایت کی اوٹ میں ہر ایک قسم کی نفسانی بدذاتی دکھلاتا ہے کہ یہ گندہ طریق جو سراسر استخوان ہے اس لائق نہیں کہ اس کا نام مذہب رکھا جائے۔افسوس ایسے لوگ نہیں جانتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے اور اصل اور بڑا مقصود ہمارا اس مختصر زندگی سے کیا ہے۔بلکہ وہ ہمیشہ اندھے اور نا پاک فطرت رہ کر صرف متعصبانہ جذبات کا نام مذہب رکھتے ہیں۔اور ایسے فرضی خدا کی حمایت میں دنیا میں بد اخلاقی دکھلاتے اور زبان درازیاں کرتے ہیں جس کے وجود کا اُن کے پاس کچھ بھی ثبوت نہیں۔وہ مذہب کس کام کا مذہب ہے جو زندہ خدا کا پرستار نہیں بلکہ ایسا خدا ایک مُردے کا جنازہ ہے۔جوصرف دوسروں کے سہارے سے چل رہا ہے۔سہارا الگ ہوا اور وہ زمین پر گرا۔ایسے مذہب سے اگر ان کو کچھ حاصل ہے تو صرف تعصب اور حقیقی خدا ترسی اور نوع انسان کی سچی ہمدردی جو افضل الخصائل ہے بالکل ان کی فطرت سے مفقود ہو جاتی ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۸ ) یادر ہے کہ کسی مذہب کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یعنی اس بات کے ثبوت کے لئے کہ وہ مذہب منجانب اللہ ہے دو قسم کی فتح کا اُس میں پایا جانا ضروری ہے۔اول یہ کہ وہ مذہب اپنے عقائد اور اپنی تعلیم اور اپنے احکام کی رو سے ایسا جامع اور اکمل اور اتم اور نقص سے دُور ہو کہ اس سے بڑھ کر عقل تجویز نہ کر سکے اور کوئی نقص اور کمی اُس میں دکھلائی نہ دے اور اس کمال میں وہ ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہو۔یعنی ان خوبیوں میں کوئی مذہب اس کے برابر نہ ہو۔جیسا کہ یہ دعویٰ قرآن شریف نے آپ کیا ہے که الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الإسلام دینا ہے یعنی آج میں نے تمہارے لئے اپنا دین کامل کر دیا۔اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کیا۔اور میں نے پسند کیا کہ اسلام تمہارا مذہب ہو۔یعنی وہ حقیقت جو اسلام کے لفظ میں پائی جاتی ہے جس کی تشریح خود خدا تعالیٰ نے اسلام کے لفظ کے بارہ میں بیان کی ہے اس حقیقت پر تم قائم ہو جاؤ۔اس آیت میں صریح یہ بیان ہے کہ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔پس یہ دعوی کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا یہ اسی کا حق تھا۔اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا جیسا کہ دیکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ توریت اور انجیل المائدة :