حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 11

کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے تو میں اس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑا۔جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہئے یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے یہ دیکھ کر میں چشم پر آب ہو گیا۔اور پھر آنکھ کھل گئی۔“ اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیا داری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی طرح ہے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخری حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں ہی گزرا۔اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر نا کا می تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پردادا صاحب کا ایک شعر بھی سُنایا کرتے تھے۔جس کا ایک مصرعہ راقم کو بھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ع ”جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے“ اور یہ غم اور درد اُن کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔اسی خیال سے قریباً چھ ماہ پہلے حضرت والد صاحب نے اس قصبہ کے وسط میں ایک مسجد تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہوتا خدائے عز وجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔چنانچہ جس دن مسجد کی عمارت ہمہ وجوہ مکمل ہو گئی اور شاید فرش کی چند منٹیں باقی تھیں کہ حضرت والد صاحب صرف چند روز بیمار رہ کر مرض پیچش سے فوت ہو گئے اور اس مسجد کے اسی گوشہ میں جہاں انہوں نے کھڑے ہوکر نشان کیا تھا دفن کئے گئے۔اللَّهُمَّ ارْحَمُهُ وَ اَدْخِلُهُ الْجَنَّةَ۔آمین۔قریباً اسی یا پچاشی برس کے عمر پائی۔ان کی یہ حسرت کی باتیں کہ میں نے کیوں دنیا کے لئے وقت عزیز کھو یا اب تک میرے دل پر درد ناک اثر ڈال رہی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو دنیا کا طالب ہو گا آخر اس حسرت کو ساتھ لے جائے گا۔جس نے سمجھنا ہو سمجھے۔میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔میں اس وقت لاہور میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا تب میں جلدی سے قادیاں میں پہنچا اور ان کو مرض زیر میں مبتلا پایا لیکن یہ امید ہرگز نہ تھی کہ وہ دوسرے دن میرے آنے سے فوت ہو جائیں گے کیونکہ مرض کی شدت کم ہو گئی تھی اور وہ بڑے استقلال سے بیٹھے رہتے تھے۔دوسرے دن شدت دو پہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرہ آرام کر لو کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔میں آرام کے لئے ایک چوبارہ میں چلا گیا اور ایک نوکر