حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 199

۱۹۹ اُسی کی گردن پر ہے اور وہی اس بات کا جواب دہ ہوگا کہ باوجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں اور ہر ایک قسم کی رہنمائی کے کیوں اس پر حجت پوری نہیں ہوئی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۵ تا ۱۸۷) یہ نکتہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف اُن نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکامِ جدیدہ لاتے ہیں لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں اُن کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔ہاں بدقسمت منکر جو اُن مقربان الہی کا انکار کرتا ہے وہ اپنے انکار کی شامت سے دن بدن سخت دل ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ نور ایمان اس کے اندر سے مفقود ہو جاتا ہے۔اور یہی احادیث نبویہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ انکار اولیاء اور اُن سے دشمنی رکھنا۔اول انسان کو غفلت اور دنیا پرستی میں ڈالتا ہے اور پھر اعمال حسنہ اور افعال صدق اور اخلاص کی اُن سے تو فیق چھین لیتا ہے اور پھر آخر سلب ایمان کا موجب ہو کر دینداری کی اصل حقیقت اور مغز سے اُن کو بے نصیب اور بے بہرہ کر دیتا ہے۔اور یہی معنے ہیں اس حدیث کے کہ "مَنْ عَادَ وَلِيًّا لِي فَقَدْ اذَنْتُهُ لِلْحَرْبِ یعنے جو میرے ولی کا دشمن بنتا ہے تو میں اس کو کہتا ہوں کہ بس اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔اگر چہ اوائل عداوت میں خدا وند کریم ورحیم کے آگے ایسے لوگوں کی طرف سے کسی قدر عدم معرفت کا عذر ہو سکتا ہے لیکن جب اس ولی اللہ کی تائید میں چاروں طرف سے نشان ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نور قلب اُس کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کی قبولیت کی شہادت آسمان اور زمین دونوں کی طرف سے بآواز بلند کانوں کو سُنائی دیتی ہے تو نعوذ باللہ اس حالت میں جو شخص عداوت اور عناد سے باز نہیں آتا اور طریق تقویٰ کو بکلی الوداع کہہ کر دل کو سخت کر لیتا ہے اور عناد اور دشمنی سے ہر وقت در پئے ایذا رہتا ہے تو اس حالت میں وہ حدیث مذکورہ بالا کے ماتحت آ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ بڑا کریم و رحیم ہے وہ انسان کو جلد نہیں پکڑتا لیکن جب انسان نا انصافی اور ظلم کرتا کرتا حد سے گذر جاتا اور بہر حال اس عمارت کو گرانا چاہتا ہے اور اس باغ کو جلانا چاہتا ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے طیار کیا ہے تو اس صورت میں قدیم سے اور جب سے کہ سلسلہ نبوت کی بنیاد پڑی ہے عادۃ اللہ یہی ہے کہ وہ ایسے مفسد کا دشمن ہو جاتا ہے اور سب سے پہلے دولت ایمان اُس سے چھین لیتا ہے۔تب بلعم کی طرح صرف لفاظی اور زبانی قیل و قال اس کے پاس رہ جاتی ہے اور جو نیک بندوں کی خدا تعالیٰ کی طرف نسبت انس