حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 192

۱۹۲۔میں اپنی تعلیم کو قریباً انیس برس سے شائع کر رہا ہوں۔اس تعلیم کا خلاصہ یہی ہے کہ خدا کو۔واحد لاشریک سمجھو اور خدا کے بندوں سے ہمدردی اختیار کرو اور نیک چلن اور نیک خیال انسان بن جاؤ۔ایسے ہو جاؤ کہ کوئی فساد اور شرارت تمہارے دل کے نزدیک نہ آ سکے۔جھوٹ مت بولو ، افتراء مت کرو اور زبان اور ہاتھ سے کسی کو ایذا مت دو اور ہر ایک قسم کے گناہ سے بچتے رہو اور نفسانی جذبات سے اپنے تئیں رو کے رکھو۔کوشش کرو کہ تا تم پاک دل اور بے شر ہو جاؤ۔وہ گورنمنٹ یعنی گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ تمہارے مال اور آبروئیں اور جانیں محفوظ ہیں بصدق اس کے وفادار تابعدار رہو اور چاہئے کہ تمام انسانوں کی ہمدردی تمہارا اصول ہو۔اور اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک نا پاک منصو بہ اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاؤ۔خدا سے ڈرو اور پاک دلی سے اُس کی پرستش کرو اور ظلم اور تعدی اور غین اور رشوت اور حق تلفی اور بے جا طرفداری سے باز رہو اور بد صحبت سے پر ہیز کرو۔اور آنکھوں کو بدنگاہوں سے بچاؤ اور کانوں کو غیبت سننے سے محفوظ رکھو اور کسی مذہب اور کسی قوم اور کسی گروہ کے آدمی کو بدی اور نقصان رسانی کا ارادہ مت کرو۔اور ہر ایک کے لئے نیچے ناصح بنو۔اور چاہئے کہ فساد انگیز لوگوں اور شریر اور بدمعاشوں اور بدچلنوں کو ہرگز تمہاری مجلس میں گذر نہ ہو۔ہر ایک بدی سے بچو اور ہر ایک نیکی کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو اور چاہئے کہ تمہارے دل فریب سے پاک اور تمہارے ہاتھ ظلم سے بری اور تمہاری آنکھیں ناپا کی سے منزہ ہوں۔اور تم میں کبھی بدی اور بغاوت کا منصوبہ نہ ہونے پاوے۔اور چاہئے کہ تم اُس خدا کے پہچاننے کے لئے بہت کوشش کرو جس کا پا نا عین نجات اور جس کا ملنا عین رستگاری ہے۔وہ خدا اسی پر ظاہر ہوتا ہے جو دل کی سچائی اور محبت سے اس کو ڈھونڈتا ہے وہ اُسی پر تجلی فرماتا ہے جو اُسی کا ہو جاتا ہے۔وہ دل جو پاک ہیں وہ اس کا تخت گاہ ہیں اور وہ زبانیں جو جھوٹ اور گالی اور یاوہ گوئی سے منزہ ہیں وہ اس کی وحی کی جگہ ہیں۔اور ہر ایک جو اس کی رضا میں فنا ہوتا ہے اس کی اعجازی قدرت کا مظہر ہو جاتا ہے۔( کشف الغطاء - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۷ ۱۸، ۱۸۸) یادر ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلعم وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے۔اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔وہ وجی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہو گی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ