حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 10
1۔صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سُنایا بھی کرتا تھا اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر نا کا می تھی۔کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور اُن کا واپس آنا ایک خیالِ خام تھا۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا۔کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے۔اگر چہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سر کار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔اسی وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے۔اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔۔عمر بگذشت و نماند ست جز آیا می چند که در یاد کسے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔از در تو اے کس بے کسے امیدم روم نا امید نیست اور کبھی درد دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔؎ باب دیده عشاق و خاک پائے کیسے مرا دلے ست که در خوں تپد بجائے کسے حضرت عزت جل شانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں اُن پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بار ہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر ناحق ضائع کر دی۔ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا عمر گزرگئی اور بہت تھوڑی باقی ہے بہتر ہے کہ کسی کی یاد میں چند شاموں کو صبح کریں۔ے تیرے در سے کوئی بھی بے کس نہیں ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ میں بھی نا امید نہیں جاؤں گا۔سے عشاق دیدہ تر اور معشوق کی خاک پا ہونے کی حالت لئے ہوئے میرا دل بھی کسی محبوب کے لئے تڑپتا ہے۔