حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 186

JAY بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سُنن کے لحاظ سے بڑے تو قف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے۔لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ اُن کا نام ونشان مٹا دیا۔اسی طرح پر ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ طرح طرح کی گالیاں ، افترا پردازیاں اور بد زبانیاں خدا تعالیٰ کے بچے سلسلے کی نسبت سُن کر اضطراب اور استعجال میں پڑیں مگر انہیں خدا تعالیٰ کی اس سنت کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی گئی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔اس لئے میں پھر اور بار بار بتاکید حکم کرتا ہوں کہ جنگ وجدال کے مجمعوں تحریکوں اور تقریبوں سے کنارہ کشی کرو۔اس لئے کہ جو کام تم کرنا چاہتے ہو یعنی دشمنوں پر حجت پوری کرنا وہ اب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔تمہارا کام اب یہ ہونا چاہئے کہ دعاؤں اور استغفار اور عبادت الہی اور تزکیہ و تصفیہ نفس میں مشغول ہو جاؤ۔اس طرح اپنے تئیں مستحق بناؤ۔خدا تعالیٰ کی ان عنایات اور توجہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے اگر چہ خدا تعالیٰ کے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے اور پیشگوئیاں ہیں جن کی نسبت یقین ہے کہ وہ پوری ہوں گی مگر تم خواہ نخواہ اُن پر مغرور نہ ہو جاؤ ہر قسم کے حسد، کینہ بغض ، غیبت اور کبر اور رعونت اور فستق و فجور کی ظاہری اور باطنی راہوں اور کسل اور غفلت سے بچو اور خوب یا درکھو کہ انجام کار ہمیشہ متقیوں کا ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ اس لئے متقی بنے کی فکر کرو۔الحکم مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ء صفحه ۵ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۲۱ ۲۱۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) راک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایک دن کوئی مجبور ہے حکم خدا کے سامنے مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا رنج وغم یاس و الم فکر و بلا کے سامنے بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے حاجتیں پوری کریں گے کیا تیری عاجز بشر کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی سر جھکا بس مالک ارض و سما کے سامنے چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا قدر کیا پتھر کی لعل بے بہا کے سامنے روزنامه الفضل مورخه ۱۳ / جنوری ۱۹۲۸ء۔در مشین اردو صفحه ۱۵۷) الاعراف: ١٢٩