حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 181

۱۸۱ ہوگا۔کیا ہم زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں؟ کیا ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں ابتلاؤں سے خوفناک ہو جائیں گے؟ کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں ہو سکتے۔مگر محض اس کے فضل اور رحمت سے پس جو جُدا ہونے والے ہیں جُدا ہو جائیں اُن کو وداع کا سلام۔لیکن یا درکھیں کہ بدظنی اور قطع تعلق کے بعد اگر پھر کسی وقت جھکیں تو اس جھکنے کی عند اللہ ایسی عزت نہیں ہو گی جو وفادار لوگ عزت پاتے ہیں۔کیونکہ بدظنی اور غداری کا داغ بہت ہی بڑا داغ ہے۔اکنون ہزار عذر بیاری گناه را مرشوئے کرده را نبود زیب دختری له (انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۴،۲۳) میں تو بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دنیا کے کیڑے نہیں ہیں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعا ئیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں لیکن وہ لوگ جن کی آنکھیں زنا کرتی ہیں اور جن کے دل پاخانہ سے بدتر ہیں اور جن کو مرنا ہرگز یاد نہیں ہے۔میں اور میرا خدا اُن سے بیزار ہیں۔میں بہت خوش ہوں گا اگر ایسے لوگ اس پیوند کو قطع کر لیں کیونکہ خدا اس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہولیکن وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے دلوں میں ہوتی ہے۔نہ ان کی نظر پاک ہے۔نہ ان کا دل پاک ہے اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کرنے کے لئے حرکت کرتے ہیں۔اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اُسی میں رہتا اور اُسی میں مرتا ہے۔وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور درحقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ے اب تو اپنی غلطی پر ہزاروں عذر پیش کرے لیکن شادی شدہ عورت کے لئے کنوار پن کا دعوئی زیب نہیں دیتا۔